خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 802
خطبات طاہر جلد ۱۲ 802 خطبه جمعه ۱۵ راکتو بر ۱۹۹۳ء ہر ایک مرد جو بیوی سے یا بیوی خاوند سے خیانت سے پیش آتی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے“ پھر بعض لوگ اپنے تعلقات کو نہیں توڑ سکتے۔ ایک شخص ایسی مجلسوں میں بیٹھتا ہے جہاں میں ہے دین پر طعن آمیزی ہورہی ہوتی ہے تخفیف کی نظر سے فیصلوں کو دیکھا جاتا ہے۔ کبھی خلیفہ وقت کے، کبھی امیر کے ، کبھی کسی اور عہدیدار کے کبھی صدر مجلس خدام الاحمدیہ کے فیصلہ کو، کبھی دوسرے عہدیداران کے فیصلوں کو تخفیف کی نظر سے دیکھا جاتا ہے یعنی اس پر مذاق اڑایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جی! دیکھو یہ باتیں ہو رہی ہیں۔ کیا فضول بات ہے، کیا معنی رکھتی ہے، کئی قسم کے تمسخر کے فقرے کسے جارہے ہوتے ہیں اور ایسی مجلس میں بعض لوگ جا کر بیٹھتے ہیں اور اس مجلس سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ قرآن کریم نے یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ جب دین کی تخفیف کو دیکھتے ہو تفصیل بیان نہیں فرمائی ، ہر قسم کی تخفیف اس میں شامل ہے تو اس وقت تک اس مجلس سے الگ ہو جایا کرو جس وقت تک یہ مضمون جاری ہے۔ یہ بہت ہی وسیع حو صلے کی تعلیم ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ مستقل ان سے قطع تعلق کرلو۔ کیونکہ اگر ہر بدی پر فوراً پورا قطع تعلق اختیار کر لیا جائے تو پھر ایسے لوگوں کی اصلاح کیسے ممکن ہوگی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ نیک ہیں وہ کلیہ ایک مکمل الگ سوسائٹی بن جائیں اور ان کا بدوں کے ساتھ کسی قسم کا اٹھنا بیٹھنا نہ ہو۔ قرآن کریم نے کس حکمت کے ساتھ اس مضمون کو بیان فرمایا کہ جب تک وہ مجلس بد ہے اس مجلس میں تم نے نہیں بیٹھنا۔ اگر اس میں بیٹھو گے تو تم بے غیرت ہوگے اور اگر تم بیٹھو گے تو تمہیں نقصان پہنچ سکتا ہے، ہاں جب وہ مجلس بدیوں سے پاک ہو چکی ہو اور رنگ اختیار کر چکی ہو پھر بے شک ان میں واپس جایا کرو اور ملا کرو تا کہ تمہاری نیکی کا اثر ان پر پڑے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: دو جو شخص مخالفوں کی جماعت میں بیٹھتا ہے اور ہاں میں ہاں ملاتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے“ اب صرف بیٹھنے کو منع نہیں فرمایا ۔ فرمایا ایسی حالت میں بیٹھتا ہے کہ بے غیرت بنتا ہے۔ ہاں میں ہاں ملانا لفظا ہی نہیں بلکہ خاموش رہنے کے نتیجہ میں بھی ہوا کرتا ہے ۔ اسے حدیث تقریری کہتے ہیں یعنی ایک انسان ایک بد بات کو سن رہا ہے اور اس کے خلاف کھل کر یا اپنے ماضی الضمیر کو،