خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 797
خطبات طاہر جلد ۱۲ 797 خطبه جمعه ۱۵ راکتو بر ۱۹۹۳ء Drug Addiction کے بدنتائج ان کو دکھائی دے رہے ہوتے ہیں۔ محسوس ہو رہے ہوتے ہیں اور بار بار بھنا بھنا کر وہ کوشش کرتے ہیں کہ نجات مل جائے لیکن پوری طرح اس کے غلام بن چکے ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر واقعہ یہ دعا کی جائے کہ اے خدا مجھے نجات بخش دے تو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا فرمادے کہ اس کی کوشش میں طاقت پیدا ہو جائے ۔ اس کو ایسے ذرائع میسر آجائیں کہ وہ واقعہ Drug Addiction سے دور ہٹ کر کسی اور طرف رخ اختیار کرے یا واقعہ اس سے وہ ذرائع چھین لئے جائیں جن کے ذریعے وہ Drug Addiction میں مبتلا ہوتا ہے ۔ دونوں صورتیں ہیں۔ دعا کے نتیجہ میں بعض دفعہ ایک بدی پر آمادہ انسان جو بدی پر تیار بیٹھا ہو لیکن دل کی آخری گہرائی میں خلوص کی کوئی رمق باقی ہو اور خدا سے یہ دعا کرے کہ اے خدا! میں ارادہ کئے بیٹھا ہوں لیکن دل نہیں چاہتا کہ تیری رضا کے خلاف کوئی لذت حاصل کروں ۔اس لئے تو میری مدد فرما اور اس بدی کو مجھ سے ٹال دے تو بسا اوقات ایسا ہو گا کہ خدا تعالیٰ اس کے رستے میں اور گناہ کے رستے میں کوئی طبعی روک پیدا کر دے گا۔ چاہتے ہوئے بھی مجبور ہو جائے گا۔ پس نیتوں کا خلوص ہے اسے تقتل کا مضمون شروع ہوتا ہے پہلے دل کے تعلقات کو بدیوں سے توڑیں یا توڑنے کا قطعی ارادہ کر لیں پھر اللہ سے دعا مانگیں تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ آپ کو ہر برائی سے تقبل اختیار کرنے یعنی علیحدگی اختیار کرنے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ۔۔۔ جو شخص دنیا کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے اور آخرت کی طرف جہاں نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔۔۔“ یعنی ہر وقت اس پر دنیا سوار ہے یہ بھی ملے وہ بھی ملے ۔ اکیلا اس کو غیر اللہ کی محبت نہیں قرار دیا لیکن ساتھ ایک اور علامت بیان فرمادی جس کے نتیجہ میں دنیا کی خواہش حقیقتاً غیر اللہ کی محبت بن جاتی ہے فرمایا وو ۔۔۔ اور آخرت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔۔۔“ مون بار بار جو شخص دنیا کی خواہش رکھتا ہے کہ جو ایک فطری چیز ہے اور ساتھ آخرت کا مضمون با دنیا اس کے سامنے آتا ہے وہ آخرت کا تصور اس کی دنیا کی خواہش کو معتدل کر دیتا ہے۔ بعض دفعہ آخرت کا تصور دنیا کی خواہش کو اس حد تک معتدل کر دیتا ہے کہ انسان میں ایک استغناء پیدا ہو جاتا ہے میری ہا حد