خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 750
خطبات طاہر جلد ۱۲ 750 خطبہ جمعہ یکم اکتوبر ۱۹۹۳ء کھلا إلى الله ، اللہ کی طرف دوڑو إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ میں تمہیں اس کی طرف کھلاک ڈرانے والا ہوں۔ وَلَا تَجْعَلُوا مَعَ اللهِ إِلهَا آخَرَ (الذریت : ۵۰-۵۱) خدا کے سوا کسی اور کو معبود نہ بنانا ۔ إِنِّي لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيرٌ مِنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ میں اللہ کی طرف سے تمہارے لئے ڈرانے والا ہوں ۔ یہ گزارش کی تھی کہ جوڑے تو دنیا میں بہت ہیں۔ خدا کے سوا ہر چیز جوڑا جوڑا ہی ہے لیکن اللہ کے ساتھ انسانی روح کا جو تعلق ہے وہ خدا تعالیٰ سے آخری جوڑ ہے اسی مضمون کے تعلق سے اب میں نے ایک ایسی آیت کی تلاوت کی ہے جو اس مضمون پر روشنی ڈالتی ہے اور ایک غلط نہمی کا ازالہ کرتی ہے۔ جوڑے کے مضمون میں خدا تعالیٰ کی طرف دوڑنے سے کسی کو یہ وہم پیدا ہو سکتا ہے کہ نعوذ باللہ، اللہ ہمارا جوڑا ہے خدا سے جوڑ ہونا اور بات ہے لیکن خدا کا جوڑا ہونا بالکل اور بات ہے ، و دور چنانچہ یہ آیت کریمہ جس کی میں نے تلاوت کی ہے یہ جوڑے کا مضمون ون بیان بیان کی کر کے اس وہم کو فرماتی ہے کہ خدا کا بھی کوئی جوڑا ہو سکتا ہے فرمایا فَاطِرُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وه زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے جَعَلَ لَكُمْ مِنْ اَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا اس نے تمہارے جوڑے تم ہی میں سے پیدا کئے ہیں۔ جوڑوں کا مضمون ایک ہی قسم کے نفوس سے باہم تعلق کو چاہتا ہے جب نفوس ایک ذات سے تعلق رکھتے ہوں تو جوڑے بن سکتے ہیں ورنہ کوئی جوڑا نہیں بن سکتا جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے کہ آلَى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَ لَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ ( الانعام (۱۰۲) که خدا کا بیٹا ہو کیسے سکتا ہے وَ لَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةُ اس کی کوئی صاحبہ نہیں ہے پس جہاں بیٹے کا مفہوم ہوگا وہاں صاحبہ کا مفہوم بھی آجائے گا ، جہاں جوڑے کا مفہوم ہوگا وہاں مذکر اور مؤنث کا مضمون بھی ذہن میں آجاتا ہے۔ ایک جوڑے کی ایک قسم اور ایک جوڑے کی دوسری قسم ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے نفوس میں سے تمہیں جوڑے بنایا يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ ، تا کہ وہ تمہاری پرورش کا انتظام کرے، تمہاری نشو ونما کا انتظام کرے ۔ بیج سے جس طرح ان صفات کی پرورش ہوتی ہے جن کو بیج لئے ہوئے ہوتا ہے اور اس نوع کے پودوں کی نشو و نما ہوتی ہے جس سے وہ بیج بنتا ہے جہاں تک خدا کی ذات کا تعلق ہے فرمایا لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ ، اس جیسی کوئی چیز نہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس جیسی کوئی چیز نہیں تو پھر خدا فِرُّوا إِلى اللهِ " کا حکم کیوں دیتا ہے اور دوسری جگہ اس