خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 745
خطبات طاہر جلد ۱۲ 745 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۹۳ء سب سے زیادہ خدا سے ڈرتا ہے اور خدا سے ڈرنے کے نتیجہ میں خدا سے دور نہیں جا رہا بلکہ خدا کی طرف آرہا ہے۔ پیس ڈرنے کا یہ مفہوم ہے جو ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہئے۔ خدا سے ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا جن باتوں سے دور ہوتا ہے، جن باتوں کے نتیجہ میں تمہیں پرے پھینک دیتا ہے یا تم اس سے پرے ہٹ جاتے ہو ان باتوں سے ڈرو تو تم خدا کی طرف دوڑو گے اور یہی تقویٰ کا مضمون ہے، یہی تقتل کا مضمون ہے جس کے مختلف پہلو اس آیت کریمہ میں بیان ہوئے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ سورہ طور آیت ۴۴ میں فرماتا ہے۔ أَمْ لَهُمُ اللَّهُ غَيْرُ اللَّهِ سُبْحَنَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ ) کیا ان کے لئے اللہ کے سوا کوئی معبود ہے بھی؟ ہے کون؟ ساری کائنات خدا کے سوا خالی پڑی ہے۔ سُبحن اللهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ ۔ اللہ ان باتوں سے بہت پاک ہے جن باتوں کا وہ شرک کرتے ہیں یعنی ہر قسم کے شرک کے مضمون سے اللہ تعالی منزہ ہے اور پاک ہے اور اس کا شرک ہو ہی نہیں سکتا ، اس لئے شرک محض خلا کا ہے، جہالت کا ہے، کچھ بھی نہیں ہے یونہی فرضی باتیں ہیں، اس کے سوا کوئی بھی حقیقت نہیں ۔ سُبْحَنَ اللهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ ۔ اللہ ان باتوں سے بہت بلند ہے جن باتوں میں اس کا شریک ٹھہرایا جا رہا ہے۔ سُبحن کا یہ مضمون تفصیل کے ساتھ اب دوسری طرح سورۃ الروم میں کھول رہا ہے۔ یہاں فرمایا۔ سُبحن الله ۔ اللہ تعالیٰ ان باتوں سے پاک ہے جن میں شریک ٹھہرایا جا ہرایا جا رہا ہے۔ وہ کون سی باتیں ہیں؟ ان باتوں کو یہ آیت کھولتی ہے فرمایا فَسُبحَنَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ (الروم : ۱۸) اللہ کی ذات کی پاکیزگی ، اس کی سبحانیت، اس طرح تم پر کھلتی چلی جائے گی کہ جب تم صبح میں داخل ہور ہے ہو اور غور کرو تو صبح ہے ہی خدا کی اس کے سوا کوئی نہیں ہے جو اندھیروں سے روشنی میں لانے والا ہو۔ جب دن کی سختیوں سے رات کے آرام میں داخل ہو رہے ہو تو اس وقت بھی تمہیں یہی دکھائی دے گا کہ اللہ کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔ وَ حِيْنَ تُظْهِرُونَ ) اور جب تم ظہر کے وقت قیلولہ کرتے ہو یا دھوپ کی سختی سے درختوں کے سائے میں آتے ہو یا دن کی سردی سے دو پہر کی دھوپ میں آرام پاتے ہو تو ہر حالت میں تمہیں یہ دکھائی دے گا کہ وہ جو فاطِرِ ہے اسی کی ذات میں پناہ ہے، اسی نے پناہ کا نظام قائم فرمایا ہے، اسی کا قانون ہے