خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 740 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 740

خطبات طاہر جلد ۱۲ 740 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۹۳ء ایک یہ ہے کہ جس کے سامنے ایک مبہم سا تصور ہے یقینی طور پر قطعی حالت میں اس محبوب سے ابھی نہ آشنائی ہوئی ہے نہ اس کا حسن پوری طرح جلوہ گر ہوا ہے لیکن عقیدہ یہ تسلیم کر بیٹھا ہے کہ یہ ایک خدا ہے اور عقیدہ یہ مان چکا ہے کہ اس خدا کی طرف بڑھے بغیر میری نجات نہیں ہے۔ یہ سالک کے سفر کا آغاز ہے جو اس طرح ہوتا ہے پس فرمایا کہ اِنَّكَ كَادِحَ إِلَى رَبِّكَ كَدْحًا تجھے بڑی محنت کی ضرورت پڑے گی بڑی مشکلات سامنے آئیں گی ہر قدم جو خدا کی طرف اٹھائے گا کسی اور جانب سے پرے ہٹائے گا اور یہ ہے جو دراصل تقتل کا مضمون ہے۔ ایک سمت سے جب ایک قدم دوسری سمت میں اٹھتا ہے تو ہر قدم پر ایک منزل دور ہو رہی ہے اور دوسری منزل قریب ہو رہی ہے۔ اپنے تعلقات کی ہر منزل سے خدا کی طرف کا سفر بڑا ہی مشقت کا سفر ہے۔ بڑی جانکاہی کی ضرورت ہے بہت محنت چاہئے بڑی قربانیاں درپیش ہیں ۔ فرمایا کہ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلى رَبِّكَ كَدْحًا اے انسان تو نے اللہ کی طرف سفر اختیار کرنا تو ہے ۔ جس نے بھی کرنا ہے مگر یاد رکھو کہ بڑا مشکل کا سفر ہے لیکن ایک چیز ہے جو تجھے سہارا دے گی اور وہ چیز خدا کا یہ یقینی وعدہ ہے کہ خواہ تم مشکل ڈال کر سفر کرو خدا وعدہ کرتا ہے کہ آخر وہ تم سے ملاقات کرلے گا اور تمہاری یہ کوشش رائیگاں نہیں جائے گی۔ پس تقتل کی دو انتہا ئیں اس آیت میں بیان ہو گئیں۔ صلى الله تقتل کی ایک انتہاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے تبتل کی انتہاء ہے اس میں پیچھے سے کھینچنے والا کوئی رستہ نہیں تھا کسی اور منزل کا خیال نہیں تھا جو قدم تھام رہا تھا ، کوئی ایسا محبوب وطن نہیں تھا جسے چھوڑ کر اللہ کی طرف ہجرت فرمارہے تھے۔ ایک ہی کشش تھی اور وہ صرف ایک اللہ کی کشش تھی اور باقی سب رستے پہلے ہی ٹوٹ چکے تھے۔ پس تبتل یہاں ایسا تقتل ہے کہ جیسے محبوب کی طرف ایک روح از خود اڑتی ہوئی چلی جاتی ہے اور غیر کے روکنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور ایک تبتل وہ ہے جو ابتدائی سفر کرنے والے کا تقتل ہے اسے ہر منزل پر دوسروں سے تعلق کاٹنے پڑتے ہیں ۔ بندھن توڑنے پڑتے ہیں، مشکل زمین پر قدم رکھتا ہے تو پاؤں دھنستے ہیں ۔ زمین وہیں روکتی ہے لیکن زور لگا کر آگے بڑھتا ہے۔ دونوں کا انجام تو وہی ہے کہ خدا ملے گا لیکن بڑا فرق ہے۔ کہاں وہ مضمون کہ اڑتی ہوئی روح حرکت کر رہی ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اے میرے آقا ! میری روح تیری طرف اڑتی ہوئی چلی جا رہی ہے ۔ وہی مضمون آنحضرت ﷺ کی ذات میں