خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 734
خطبات طاہر جلد ۱۲ 734 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۹۳ء کیفیت ہو گی یعنی ایک دوسرا معنیٰ اس فرار کے لفظ میں پیدا ہو جاتا ہے کہ ہم کسی تعلق والے سے اس لئے منہ موڑ رہے ہیں کہ خدا کا تعلق یہی تقاضا کر رہا ہے۔ اس وقت یقیناً حالت اضطراب ہوتی ہے اور اضطراب کے وقت انسان کسی پناہ کو ڈھونڈتا ہے کسی سکون کی جگہ تلاش کرتا ہے۔ فرمایا۔ فَفِرُّوا إِلَى اللهِ جس کی خاطر تم نے یہ تعلق توڑا ہے یا اس تعلق پر خدا کو تر جیح دی ہے تمہیں امن بھی اس کی ذات میں نصیب ہوگا اور وہیں تمہیں سکینت قلب میسر آئے گی پس دوڑ کر اس سکینت کے مقام کی طرف آؤ۔ پس ہر آزمائش کے وقت خدا کی طرف حرکت میں ایک تیزی پیدا ہو جاتی ہے۔ ہر خوف سے بچنے کے لئے انسان خدا کی طرف پہلے سے زیادہ تیزی کے ساتھ دوڑتا ہے۔ پس یہ مضمون ہے کہ جب تم اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل کر لو تو پھر ہر طرف سے ایک فرار کا سلسلہ شروع ہو جائے گا جو لا متناہی ہوگا ۔ مختلف وقتوں میں مختلف تعلقات میں تم آزمائے جاؤ گے اور وہ جو حقیقتا اللہ تعالیٰ کا عرفان رکھتا ہے ، اس کی توحید کا قائل ہے، اس کو ایک ہی جائے فرار دکھائی دے گی اور کوئی جائے فرار نہیں ہوگی اس کے برعکس جو اللہ سے بھاگتے ہیں ان کو شش جہات میں ہر طرف فرار کی راہیں دکھائی دیتی ہیں، ہر غیر اللہ جہاں جہاں بھی ہو گا وہ خدا سے بھاگ کر امن کی جگہ دکھائی دیتا ہے لیکن ہر جگہ اس کو سراب پاتا ہے اس میں کوئی بھی حقیقت نہیں دیکھتا یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر اس پر غالب آجاتی ہے اور اس کی سزا کا وقت آجاتا ہے۔ پس یہ بتل الی اللہ کا مضمون ہے جس کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے توحید کے بعد رکھا کیونکہ توحید کا عرفان نہ ہو اور اس سے گہرا تعلق نہ ہو تو خدا تعالیٰ کی ذات کی طرف بھاگنے کا مضمون پیدا ہی نہیں ہوتا۔ انسان تو خوف کے مقام سے امن کے مقام کی طرف بھاگتا ہے۔ جب امن کے مقام کا پتا ہی نہ ہو کہ ہے کون سا ، تو اس وقت تک اس کی طرف بھاگ نہیں سکتا اور امن کے مقام کا جب ہر دوسرے مقام سے مواز نہ ہو رہا ہے تو ہر دوسرے مقام سے انسان خدا کی طرف بھاگے گا ، یقینی طور پر اور قطعی طور پر اس کے علم میں یہ جائے امن ہمیشہ اس کے پیش نظر رہنی چاہئے ۔ لوگ بعض دفعہ کسی خاص خطرے کے وقت خاص جگہ کو اپنے امن کے لئے مقرر کر لیا کرتے ہیں۔ جنگیں ہوتی ہیں تو بتایا جاتا ہے کہ تم زیر زمین کوئی پناہ گاہ کھود لو اور اس کو مضبوط کر لو اور اس میں ضرورت کی چیزیں اکٹھی کرلو اور یا درکھو کہ اس کے رستے پتا کر لو کہ کون سے ہیں۔ جب خوف کا الارم بجے گا تو تمہیں دوڑ کر وہاں جانا