خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 725
خطبات طاہر جلد ۱۲ 725 خطبہ جمعہ ۷ ار ستمبر ۱۹۹۳ء قریب آرہا ہے آپ اس طرف بڑھیں اس کے استقبال کی تیاری کریں اور جس طرح میں نے کہا ہے اپنا جو کچھ ہے ہمت سے اس میدان میں جھونک دیں۔ یہ انگلستان کی جماعت کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے لیکن سب دنیا کی جماعتوں کے لئے چیلنج ہے، انگلستان کو میں نے اس لئے پہلے مخاطب کیا ہے کہ آپ میرے سامنے بیٹھے ہیں اور آپ کے سامنے بیلی تو بلجيم پوروپین ملک کی مثال ہے لیکن مجھے یہ نظر آرہا ہے کہ اگر انگلستان بیدار نہ ہو تو ہیں بیلجیم ان کو پیچھے چھوڑ جائے گا کیونکہ تحکیم والوں سے جتنی میں نے توقع رکھی تھی اس سے دگنے سے زیادہ تو بیلم الله ابھی تک وہ بنا چکے ہیں اب جلسے سے پہلے جب ان کو ایک ٹارگٹ دیا گیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے پورا کیا اور اس سے زائد کیا۔ جلسے کے کچھ دن کے بعد اب میں حکیم گیا ہوں تو اتنے ہی اور احمدی بنا چکے تھے یہ کوئی فرضی باتیں نہیں ہیں میں ان سے ملا ہوں ، ملاقاتوں پر آئے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے بڑے تعلیم یافتہ اور سمجھدار اور ہوشیار لوگ خوب اچھی طرح سمجھ کے ہوئے ہیں اور بڑے نیک ارادے رکھتے ہیں، عزم صمیم کئے ہوئے ہیں کہ ہم اپنے اپنے دائرے میں اب ضرور احمدیت کو پھیلائیں گے۔ پھر دو نئے ملک ان کو عطا ہوئے دونئی قوموں کے لوگ ان کو ملے ایک مقدونیہ (Macedonia) کا جوڑا تھا جہاں میرا خیال تھا کہ پہلے کوئی نہیں لیکن جرمنی میں جا کے پتہ چلا کہ میسے ڈونیا کے وہاں بھی خدا کے فضل سے احمدی ہوئے ہیں۔ پھر یوگوسلاویہ کی ایک اور ریاست مانٹینیگر (Maonetenegor) کا ایک خاندان بھی وہاں احمدی ہوا ہے۔ اب یہ دو جگہیں ایسی ہیں جہاں اس سے پہلے ہماری پہنچ نہیں تھی لیکن ان سے جب میں ملا ہوں تو میں بے حد متاثر ہوا۔ بڑے عظیم ارادے رکھتے ہیں انہوں نے مجھے سے مل کر کہا کہ آپ اب فکر نہ کریں اب ہماری قوم ہماری ذمہ داری ہے ہم اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں ہم دعائیں کر رہے ہیں آپ بھی ہمارے لئے دعائیں کریں انشاء اللہ واپس جا کر ہم نے بڑی تیزی سے اپنی قوم میں پیغام پھیلانا ہے۔ تو یہ ہوائیں کسی انسان کے بس میں تو نہیں کہ وہ چلائے یہ تقدیر الہی ہے جو ہوا چلا رہی ہے اس ہوا کے رخ پر چلنے کے لئے آپ سے کہہ رہا ہوں ہوا کے مخالف چلنے کے لئے تو نہیں کہہ رہا۔ پاکستان میں کیسے شدید حالات آپ نے دیکھے ہیں دن بدن علماء اور بعض دوسرے علماء