خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 718
خطبات طاہر جلد ۱۲ 718 خطبہ جمعہ ۷ ار ستمبر ۱۹۹۳ء انسان اچھا سمجھتا ہے اور مذہب کے فرق سے کوئی فرق نہیں پڑتا کسی کو اگر بد دیانتی سے روکا جائے تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم تو مسلمان ہو اور میں ہندو یا میں سکھ ہوں مجھے کیوں بد دیانتی سے روکتے ہو۔ کہ تم یہ ایک مشترک انسانی قدر ہے اور یہی وہ عرف ہے جس کی طرف آیت کے پہلے حصے نے توجہ دلائی ہے کہ اچھی باتیں بتاؤ ۔ ان سے کہو دیکھو! غریب بھوکے مر رہے ہیں چلو ان کی مدد کریں تم بھی ساتھ شامل ہو جاؤ یہ گلی گندی ہے آؤ اس کو صاف کرتے ہیں۔ فلاں شخص لا علم ہے چلو اس کی تعلیم کا انتظام کرتے ہیں، فلاں شخص بے فن ہے اس کو کوئی فن نصیب نہیں جس کی وجہ سے وہ بھوکا مر رہا ہے آؤ اس کو کوئی فن سکھائیں ۔ یہ ساری باتیں وہ ہیں جو امر بالمعروف سے تعلق رکھتی ہیں اور ان میں مذہب کی تفریق سے ہرگز کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ تو پہلے قدر مشترک اختیار کرو پھر اکٹھا سفر شروع ہوگا قوموں کو ان کی بھلائی کی باتیں بتاؤ اس سے دو فائدے ہوں گے ایک تو جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے ان کو آپ کی اعلیٰ انسانی قدروں پر یقین ہوگا ان کے دل میں یہ بات جاگزیں ہو جائے گی کہ اچھا انسان ہے، اچھی باتیں سوچتا ہے لوگوں کی بھلائی میں دلچسپی لیتا ہے، یہاں کوئی بحث نہیں چلے گی نہ کسی بحث کی ضرورت ہے۔ کوئی مقابل پر آپ کو گالی نہیں دے گا کوئی مخالفت نہیں کرے گا کوئی یہ نہیں کہے گا کہ جاؤ جاؤ اپنی اچھی باتوں کو اپنے گھر رکھو۔ اگر کوئی کہے گا تو وہ سر پھرا ہی ہوگا۔ لیکن عام انسانی تاثر یہی ہے کہ جب اچھی بات آپ کسی کو کہتے ہیں اگر وہ نہیں بھی کر سکتا تو شرمندگی سے سر جھکا لے گا لیکن بنیادی طور پر آپ کی نیکی کا اس کے دل پر ضرور اثر پڑے گا۔ پھر آپ معاشرے کی برائیاں دور کرنے میں نہ صرف لفظا کوشش کریں بلکہ مقدور بھر کوشش کریں گے ۔ مثلاً دنیا میں Drug کے عادی ہیں، چوری عام ہو رہی ہے اور کئی قسم کی بدیاں ہو رہی ہیں جو معاشرے میں ناسور بن چکی ہیں ان سب کے سلسلے میں جب آپ بات کرتے ہیں کہ ایسا نہیں کرنا چاہئے تو اس سے تعلق رکھنے والی ایک بات ایسی ہے جو کبھی اس سے جدا نہیں ہوسکتی ۔ جو نصیحت کرے کہ فلاں بات نہیں کرنی چاہئے اگر وہ اس میں ہو تو وہ شخص ناصح نہیں بلکہ منافق بن جاتا ہے اور اس کا کبھی نیک اثر نہیں پڑتا اس لئے نھی عن المنکر میں بھی اور امر بالمعروف میں بھی یہ دونوں باتیں شامل ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے امت محمدیہ ! میں تمہیں ایسا دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم زبان سے جو کچھ کہو تمہارا کردار اس کا گواہ بن جائے تم جب بھلائی کی باتیں بیان کرو تو بھلائی تم میں پائی