خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 714
خطبات طاہر جلد ۱۲ 714 خطبه جمعه ۷ ار ستمبر ۱۹۹۳ء اس سلسلے میں پہلے بھی میں جماعت کو سمجھا چکا ہوں کہ اس میں بہت گہری حکمت ہے ایسی گہری حکمت ہے کہ اگر اس کو آپ پالیں تو دنیا میں بہت سے بڑے بڑے جو انقلابات ہیں ان کی کامیابی یا نا کامی کا راز آپ پا جائیں گے قرآن کریم کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ صرف برائی کو دور کرے جب تک کہ جس چیز کو دور کر رہا ہے اس سے بہتر چیز نہ پیدا کر دے۔Annihilation کے قرآن کریم خلاف ہے۔ کوئی مثبت چیز ہے تو دو اور پھر اس کے بدلے برائی کو دور کرو۔ اب کسی نے پھٹے ہوئے کپڑے پہنے پہنے ہیں آپ اس کو کہہ دیں کہ پھٹے ہوئے کپڑے بری بات ہے اتارو ، ان کو پھینکو اور اس کے بدلے اچھے کپڑے نہ دیں تو ظلم ہوگا۔ خلا پیدا کرنے کے لئے اسلام نہیں آیا، اسلام بری باتوں کو اچھی باتوں سے بدلنے کے لئے آیا ہے۔ اس لئے بظاہر انسانی سوچ یہ کہہ سکتی تھی کہ پہلے برائیاں تو دور کر لو پھر بھلائی قائم کرنا مگر خدا کی حکمت بالغہ یہ نہیں کہتی ، اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کلام کسی انسان کا کلام نہیں بلکہ خدا کا کلام ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے قلب صافی پر نازل ہوا۔ پس ہر جگہ بہتر چیز کو لانے کا پہلے حکم ہے بد چیز کو دور کرنے کا بعد میں حکم ہے پس یہاں اسی ترتیب کو قائم رکھا گیا ۔ فرمایا معروف کا حکم دیتے ہیں اور ایسی اچھی بات بتاتے ہیں کہ جس کے ذریعے قوموں کو بڑی مشکلات سے نجات ہی نہیں ملتی بلکہ ان کے بدلے اعلیٰ اقدار حاصل ہو جاتی اعلیٰ ہیں ، اعلیٰ اقدار کی شناخت ہو جاتی ہے۔ پس جب اعلیٰ اقدار کی شناخت ہو جائے پھر برائیاں دور کرنا نسبتا آسان بھی ہو جاتا ہے اگر اچھی بات کی سمجھ آجائے تو پھر انسان بری بات سے ہٹے تو اس میں کوئی سمجھتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کے بدلے ایک بہتر چیزمل چکی ہے، ورنہ خالی برائیاں دور کرنے کی کوشش کر کے دیکھ لیں آپ سے کچھ نہیں ہوگا۔ قرآن کریم کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار یہ نکتہ پیش فرمایا ہے کہ عرب شعراء اور عرب اہل ادب کو شاعری اور ادب سے نسبتنا جو تعلق ٹوٹا اور قرآن کی طرف مائل ہوئے اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ شعر وادب کے خلاف اسلام نے کوئی مہم چلائی تھی بلکہ شعر سے بہتر کلام الہی نازل ہوا تھا۔ ادب سے زیادہ لطیف ایسی آیات اتر آئیں جن میں صاحب ذوق آدمیوں کو ذاتی دلچسپی پیدا ہو گئی ۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں بھی اس مضمون کو چھیڑا ہے یہ بیان فرمایا