خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 65 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 65

خطبات طاہر جلد ۱۲ 65 خطبه جمعه ۲۲ جنوری ۱۹۹۳ء ہیں اس وقت تک خدا کی تقدیر یہ سامان ظاہر نہیں فرمائے گی ۔ مسلمان کا تبدیل ہونا ضروری ہے اور مسلمان کو اپنے آپ کو سیدھے ہو کر ، سب خم نکال کر اپنے آقا و مولیٰ محمد مصطفی ﷺ کے قدموں میں پیش کرنا لازم ہے۔ یہ کر کے دیکھو پھر دیکھو کہ آسمان به کس طرح تمہاری مدد کے لئے یوں جیسے پھٹ پڑتا ہو ۔ اس طرح ظاہر ہوگا کہ جیسے بلاؤں کے وقت ہو۔ آسمان پھٹتے ہیں اور بلائیں نازل ہوتی ہیں مگر خدا کی قسم یہ بلائیں مسلمان پر نازل نہیں ہوں گی بلکہ صلى اصلى الله عروسه اسلام کے دشمنوں پر نازل ہوں گی۔ تم محمد رسول اللہ ﷺ کی خاطر اپنے دل تو پھاڑ وہ تم محمد مصطفی ہے کے دین کی خاطر اپنے سینے تو چاک کرو پھر دیکھو کہ خدا کا آسمان کس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کی خاطر پھٹتا ہے اور کیسے تکبر کے سرتوڑے جاتے ہیں مگر کس خاطر ؟ ہلاکت کی خاطر نہیں ۔ یہ کہنے کی باتیں ہیں۔ یہ محض ایک زبان کے چسکے ہیں۔ اگر ہم یہاں تک آ کر رک جائیں اور کہہ دیں کہ بہت مزا آیا آسمان پھٹ پڑے دشمن ہلاک ہو گئے محمد رسول اللہ ﷺ ہلاکت پیدا کرنے کے لئے تشریف نہیں لائے تھے۔ محمد رسول اللہ ﷺ زندگی عطا کرنے کے لئے آئے تھے اس پیغام کو مسلمان کو نہیں بھولنا چاہئے ۔ جب بھی غضب کے جذبات دل میں پیدا ہوں جب بھی انتقام جوش مار رہا ہو۔ اس وقت اپنے خیالات کو سیدھا کرنا ضروری ہے۔ اور جن کجیوں کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں سے ایک یہ بھی کبھی ہے کہ غیض و غضب کی کبھی ، انتقام کی کبھی ہے جسے لازماً ہمیں ہموار کرنا ہو گا اور اسے ہموار کرنے کے لئے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے قدموں کی برکت کی ضرورت ہے اپنے دلوں پر ان پاک قدموں کو اتار و محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت کو اپنی سیرت میں جاری کرو۔ اس طرح تمہاری سب کجیاں دور ہوں گی اور اسی میں ، علاج ہے ورنہ حالت یہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں کی سیادت اور ان کی قیادت بد نصیبی سے د صلى الله سب علاء عروسة۔ دو ایسے حصوں میں بٹ چکی ہے کہ نہ اس طرف عقل ہے نہ اُس طرف عقل ہے ، نہ اس طرف نور باقی ہے نہ اُس طرف نور باقی ہے۔ ایک قیادت ہے جو Rightist کہلاتی ہے اور بجائے اس کے کہ الله حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانے تک پہنچ کر آپ ﷺ کے قدموں سے فیض حاصل کرے وہ ازمنہ وسطی میں ٹھہر جاتی ہے اور Medievalist بن کر اسلام کا ایک بگڑا ہوا تصور ہی دنیا کے سامنے پیش ہی نہیں کرتی بلکہ تلوار کے زور سے نافذ کرنے کا ادعا کرتی ہے۔ یہ دائیں بازو کی وہ بگڑی