خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 683 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 683

خطبات طاہر جلد ۱۲ 683 خطبه جمعه ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء پس ایک یہ مفہوم ہے مغرب سے تو حید کے سورج طلوع ہونے کا ۔ فرماتے ہیں۔ اگر میرا مولا اور میرا قادر و توانا خدا مجھے تسلی نہ دیتا کہ آخر توحید کی فتح ہے۔ وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا۔“ اب بتائیں کہ یہ کسی انسان کا کلام ہو سکتا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مشرق میں بیٹھے ہوئے ، اکثر مسلمانوں کی اکثریت مشرق میں موجود ، سارا دینی جہاد مشرق سے شروع ہوا ہے اور ، فرماتے ہیں خدا مجھے یہ تسلی دیتا ہے کہ مغرب سے توحید کا سورج طلوع ہوگا۔ کسی انسان میں ادنی سی خدا مجھے یہ سے شرافت اور حیا ہو تو وہ اس فقرے کو پڑھنے کے بعد مسیح موعود علیہ السلام کو جھوٹا قرار نہیں دے سکتا۔ نفس کی باتیں ہی نہیں ہیں۔ خدا کا کلام ہے جو اسی طرح آپ کے دل پر نازل ہوا اور اسی طرح آپ نے ہمارے سامنے رکھ دیا۔ مغرب کی طرف سے چڑھے گا اور یورپ کو سچے خدا کا پتا لگے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کی ان خوشخبریوں پر کامل یقین رکھیں اور توکل رکھیں، خود موحد بن جائیں پھر دیکھیں کہ کس طرح دیکھتے دیکھتے مغرب کی کایا پلٹ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہو۔ (امین ) اس کا باقی حصہ انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ خطبے میں پیش کروں گا۔ اب چونکہ اس جمعے کے معاً بعد ناروے کا جو میرا خطبہ تھا۔ وہ ایک اہم پیغام بھی رکھتا ہے۔ وہ آپ کو سنایا جانا ہے۔اس لئے میں اس خطبے کو یہاں ختم کرتا ہوں اور نماز کے بعد احباب بیٹھے رہیں تو انشاء اللہ تعالیٰ ناروے کا خطبہ بھی آپ سن سکیں گے۔