خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 671
خطبات طاہر جلد ۱۲ 671 خطبه جمعه ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء صلى اِنَّ اللهَ مَعَنَا ہر گز غم نہ کرو اِنَّ اللهَ مَعَنا خدا ہمارے ساتھ ہے۔ یہ واقعہ کیا ہوا تھا۔ حضرت ابوبکر کا کوئی قول قرآن مجید میں ذکر نہیں فرمایا بلکہ صرف حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا تسلی دلانا، مذکور ہے۔ وہ واقعہ بخاری میں یوں ملتا ہے کہ حضرت ابو بکر نے مجھے بتایا کہ غار میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ میں تھا۔ میں نے مشرکوں کے قدم دیکھے تو عرض گزار ہوا یا رسول اللہ ﷺ ! اگر ان میں سے کسی نے اپنے قدم اٹھائے تو ہمیں دیکھ لے گا یعنی معمولی سا ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا۔ ان کے اور ہماری راہ میں اب کوئی اوٹ حائل نہیں رہی۔ قدم کی ذراسی حرکت کے نتیجے میں وہ اتنا قریب آجائیں گے کہ ہمیں وہ دیکھ سکیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ان دو کے بارے میں تمہارا کیا صلى الله وليسه خیال ہے۔ وہ دو، جن کے ساتھ تیسرا خدا ہو اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ یہ روایت اس قرآنی آیت کی تصدیق کرتی ہے۔ تصدیق کا لفظ تو درست نہیں۔ قرآن کریم اس روایت کی تصدیق کرتا ہے کہنا چاہئے ۔ مگر طرز بیان میں معمولی سا فرق ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حضور اکرم کے متعلق فرماتا ہے کہ آپ نے فرمایا اِنَّ اللهَ مَعَنَا خدا ہمارے ساتھ ہے۔ جو الفاظ راوی کو یادرہے ہیں صلى الله تیسرا حضرت ابوبکر نے بیان کئے تھے۔ وہ یہ تھے ان دو کے متعلق ان دو کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جن دو کے ساتھ خدا ہو۔ تو معنا کا مضمون ہی ہے اور قرآن کی گواہی ہی دراصل قابل اعتماد گواہی ہے۔ مضمون ایک بھی ہو روایت کا جو فرق ہے۔ معلوم ہوتا ہے قرآن کریم کے الفاظ ہی میں آنحضور ﷺ نے یہ فرمایا ہوگا اور ان الفاظ کا ترجمہ راوی نے یوں کر دیا ہے۔ ان دو کا کیا حال ہو گا جن کے ساتھ تیسرا خدا ہو۔ پس توحید کے نتیجے میں محض خطرات سے مقابلے کی جرات ہی پیدا نہیں ہوتی اور ہر چیز قربان کرنے کا جذبہ ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ جب خدا کی حفاظت میں انسان ایک سفر اختیار کرتا ہے یا کوئی کام بھی اس یقین کے ساتھ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا سایہ نصیب ہو۔ تو پھر بڑے سے بڑا خطرہ بھی انسان کے دل کو دہلا نہیں سکتا۔ کامل تو گل پیدا ہوتا ہے اور بھاگنے والوں کے دل میں تو گل نہیں ہوا کرتا۔ اس لئے میں نے کہا کہ غار ثور میں جو واقعہ ہوا ہے ایک عظیم الشان گواہی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور آپ کے خدا تعالیٰ سے تعلق اور آپ کے تو کل پر ہے۔ جو شخص بھاگ رہا ہو۔ اس کو تو ذرا سا بھی خطرہ دکھائی دے تو اس کی جان نکنے لگتی ہے وہ سمجھتا ہے مارے اقدس محمد صلى الله گئے اور پکڑے گئے۔ لیکن دشمن سامنے کھڑا ہو اس کے پاؤں دکھائی دے رہے ہوں دشمن کو معلوم ہو کہ