خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 669
خطبات طاہر جلد ۱۲ ه 669 خطبه جمعه ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء آئینہ تیری قدر کیا جانے میری آنکھوں سے دیکھ تو کیا ہے صلى الله تمام دوسرے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تعریف کرنے والے ، مسیح موعود کی تعریف کے صلى الله مقابل پر آئینہ دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں وہ زندگی نہیں ، وہ جان نہیں ، وہ گہرائی نہیں ، وہ عرفان نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے آقا و مولا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا نصیب ہوا مگر اس ذکر سے پہلے میں غار ثور کا واقعہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض دشمنانِ اسلام آنحضرت ﷺ کی ہجرت کو بزدلی کی ہجرت قرار دیتے رہے اور آپ کے ملکے کو چھوڑ کر مدینے کی طرف ہجرت کرنے کو ایک فرار قرار دیتے رہے۔ مگر غار ثور نے ہمیشہ ہمیش کے لئے یہ گواہی لکھ دی۔ یہ فرار کا سفر نہیں تھا۔ اگر تھا تو پھر بھی فرار الی اللہ کا سفر تھا، نہ خدا سے فرار کا سفر تھا، نہ شیطان بندوں کے شر سے فرار کا سفر تھا بلکہ خالصہ اللہ کی تقدیر کے تابع یہ سفر اختیار فرمایا گیا۔ سے صلى الله غارثور میں جو واقعہ رونما ہوا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ بندوں کے خوف سے فرار نہیں کر رہے تھے جس نے تیرہ سال انتہائی دکھوں میں زندگی بسر کی اور شدید سے شدید خطرات کا کامل بے پروائی اور بے نیازی سے مقابلہ کیا ہے۔ اوّل تو اس پر فرار کا الزام لگ ہی نہیں سکتا ۔ وہ بے حیائی ہے ایسا الزام لگا نا لیکن وہ دشمن جن کی زبانیں شیطان کے قبضے میں ہیں وہ ایسے الزامات لگانے باز نہیں آتے۔ غار ثور میں جو واقعہ ہوا ہے وہ بتاتا ہے کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا سفر فرار کا سفر نہیں تھا کیونکہ وہ لوگ جو آپ کا پیچھا کر رہے تھے۔ آپ کی جان کے دشمن یہ عزم لے کر صلى الله مکے سے نکلے تھے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو اس سفر میں مدینہ پہنچنے سے پہلے پہلے جائیں اور ریگستان میں دو مسافر یعنی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر ان کی نشاندہی کرنا کچھ بھی مشکل نہیں تھا۔ ریت پر چلتے ہوئے نشان بتا رہے تھے کہ کدھر کو یہ سواریاں گئی ہیں اور پھر کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں چھپ کر یہ دو آدمی اپنا پیچھا کرنے والوں کی نظر سے غائب ہو سکیں اس لئے کامل یقین اور عزم کے ساتھ آپ کے دشمن آپ کے پیچھے لگے اور غار ثور تک جا پہنچے۔ جہاں تک قدموں کے نشان الله ان کو لے گئے اور غار ثور میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس صلى الله سلام وقت یہ عجیب واقعہ ہوا ہے کہ ان کے پاؤں نیچے بیٹھے ہوئے حضرت رسول اکرم ﷺ اور حضرت ابو بکر