خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 653 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 653

خطبات طاہر جلد ۱۲ 653 خطبه جمعه ۲۷ را گست ۱۹۹۳ء ساتھ رہیں گے تو لازماً خلافت آپ کے ساتھ رہے گی اور یہی دونوں کا ساتھ ہے جو تو حید پر منتج ہوگا۔ اسی کے نتیجے میں تمام دنیا کی قوموں کو امت واحدہ بنایا جائے گا اور ایک خدا، ایک رسول اور ایک دین اور اسی کے تابع تمام وہ خدمت کرنے والے ہوں گے جو اسی سلسلے میں منسلک ہوں گے۔ جس کا آغاز حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعے ہوا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جیسا کہ آیت استخلاف میں بالآخر تو حید کے مضمون پر بات ختم کی تھی۔ اس قدرت ثانیہ کے مضمون کو بھی توحید پرختم فرمایا۔ فرمایا۔ صلى الله ” خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں۔ توحید کی طرف کھینچے۔“ (الوصیت ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۶-۳۰۷) وہ جو پہلے قدرت ثانیہ کا بیان ہے اس کو اس طرح توحید کے مضمون سے جوڑ دیا اور توحید پر اس مضمون کو ختم فرما دیا۔ توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے یہی خداتع خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا سو تم اس مقصد کی پیروی کروگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے کے ساتھ ۔ پس یہی میرا پیغام ہے ان تمام مجالس کو بھی جو آج اجتماع میں اس وقت دینی مقاصد کے لئے جمع ہورہی ہیں اور ان ساری دنیا کی جماعتوں کو بھی جو قیامت تک ہمیشہ دینی مقاصد کے لئے جمع ہوتی رہیں گی۔ وہ آیات کریمہ جن کی میں نے تلاوت کی تھی۔ ان میں سے ایک آیت وہ ہے جو گزشتہ خطبے میں بھی میں نے تلاوت کر دی تھی اور اس کا ایک حصہ کچھ بیان کرنا باقی تھا۔ وہ یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے خدا تعالیٰ یعنی اللہ گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور یہ گواہی کامل طور پر انصاف پر قائم ہوتے ہوئے دیتا ہے اور اس کی ذیل میں ملائکہ بھی اور اہل علم بھی اسی طرح یہ گواہی دیتے ہیں۔ آخر پر نتیجہ یہ نکالا گیا کہ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ کوئی معبود نہیں ہے خدا کے سوا، وہ عزیز بھی ہے اور حکیم بھی ہے۔ دراصل یہ تین چشمے ہیں جو توحید سے پھوٹ رہے ہیں جن کا یہاں بیان ہے۔ پہلا چشمہ عدل ہے۔ چشمہ عدل توحید سے پھوٹتا ہے اگر خدا کے سوا کا ئنات میں کوئی اور معبود ہوتا تو پھر توحید کے نہ ہونے کی وجہ سے عدل کا قیام بھی ممکن نہیں