خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 645 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 645

خطبات طاہر جلد ۱۲ 645 خطبه جمعه ۲۷ اگست ۱۹۹۳ء قدرت ثانیہ کے ہوتے ہوئے کسی اور مجدد کی کوئی ضرورت نہیں۔ توحید نے غلاموں کو بھی ایسی عزت دی کہ وہ سیدنا بن گئے ( خطبه جمعه فرموده ۲۷ اگست ۱۹۹۳ء بمقام بیت الفضل لندن ) ط تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں۔ شَهِدَ اللهُ أَنَّهُ لَا إِلهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَئِكَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (ال عمران : ١٩) وَالهُكُمْ إِلهُ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (البقره: ۱۶۴) پھر فرمایا:۔ پہلی آیت ال عمران سے آیت ۹ تھی دوسری آیت سورۃ البقرہ ۱۶۴ ہے۔ توحید کا جو مضمون میں بیان کر رہا ہوں اس کی طرف آنے سے پہلے چند اجتماعات سے متعلق اس خواہش کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ ان اجتماعات کا بھی آج کے خطبے میں ذکر کیا جائے اور ان کے نام کوئی پیغام ہو۔ یہ سلسلہ تو اب دراز ہوتا چلا جائے گا اور پھیلتا چلا جائے گا ۔ اب تو شاید ہی کوئی خطبہ ایسا ا ہو ہو جس میں کسی نہ کسی جگہ جماعت جماعت احمدیہ احمد یہ کا کا ان اجتماع نہ ہو رہا ہو یا مجالس کا اجتماع نہ ہو رہا ہو۔ دراصل ہر خطبہ ساری جماعت ہی کے لئے پیغام ہوتا ہے اور وہی پیغام تمام اجتماعات کا پیغام بننا اہئے مگر کچھ دوستوں میں یہ تمنا ہوتی ہے کہ ہمارا نام خطبے میں آجائے ، ہماری مجلس کا ذکر آئے تو دراصل پیغام سے زیادہ اس خواہش کا اظہار ہے کہ ہمارا نام بھی خطبے میں چمکے اور ساری دنیا میں پھیلے۔