خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 643
خطبات طاہر جلد ۱۲ 643 خطبه جمعه ۲۰ را گست ۱۹۹۳ء صلى الله کہتے ہیں کہ جب احمدی کہتا ہے لا اله الا الله محمد رسول الله کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں محمد مصطفی یا علی اس کا بندہ اور رسول ہے تو یہ یہ کلام کلام ہمیں ہمیں ایسا ایساد دکھ پہنچاتا ہے کہ جیسے سلمان رشدی کو آزاد چھوڑ دیا تھا اور پاکستان کی گلیوں میں ایسے سلمان رشدی آزاد چھوڑ دیئے گئے ہیں جو جگہ جگہ لا اله الا اللہ کا اعلان کرتے پھریں گے ان لوگوں کی امن کے کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی جس کا دل چاہے ان کو قتل کرتا پھرے، جس کا دل چاہے ان کا مال لوٹے۔ پس توحید کے لئے جس طرح اولین نے قربانیاں دی تھیں خدا کی قسم ! آج آپ ہیں جو توحید کے لئے ایسی قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ میں وہ چند مثالیں آپ کے سامنے رکھوں گا تو پھر آپ دیکھنا کہ کس طرح پاکستان کی گلیوں میں، مکے کی گلیوں کے واقعات دہرائے جا رہے ہیں۔ وہ تاریخ از سر نو ہمارے خون سے لکھی جا رہی ہے۔ ہماری عزت کی قربانیوں سے وہ تاریخ دہرائی جارہی ہے۔ پس ہم محض دعوی دار ہی نہیں ہیں توحید کے ، ہم تو حید کو اپنے اعمال میں جاری کر چکے ہیں۔ آج ایک ہم ہی تو ہیں جو توحید کے نام پر ہر قسم کے ابتلاؤں میں مبتلا کئے گئے اور ہر ابتلاء سے ثابت قدم باہر نکلے ہیں ۔ اسی کا نام قَدَمَ صِدْقٍ (یونس:۳) ہے۔ صلى الله اللہ تعالیٰ ہمیشہ جماعت احمدیہ کو قَدَمَ صِدْقٍ عطا فرماتا رہے ۔ یہی وہ قدم ہے جو محمد مصطفی کی غلامی میں معراج تک پہنچتا ہے۔ ہمیں اس معراج کے قدموں تک پہنچنے کا تصور نہیں عروسه آ سکتا، مگر یہ وہ راہ ہے جس میں جس قدم پر یعنی محمد مصطفی ﷺ کے نقش قدم پر ہماری جان جائے گی خدا کی قسم ! وہی ہمارا معراج ہوگا۔