خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 60 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 60

خطبات طاہر جلد ۱۲ 60 خطبه جمعه ۲۲ جنوری ۱۹۹۳ء کیونکہ اس جمعہ کے ذریعہ اپنے پیاروں کے ساتھ وصال کی ایک صورت بن جاتی ہے۔ مختلف ملکوں سے جو خطوط آرہے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمد یہ میں حیرت انگیز رفتار کے ساتھ بڑی تیزی سے پاک تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں اور احمدی یہ لکھ رہے ہیں کہ ہماری نئی نسلوں کو اب محسوس ہوا ہے کہ نظام جماعت کیا ہے اور ایک ہاتھ پر ایک خلیفہ کے تابع رہ کر خدمت دین کرنا کس کو کہتے ہیں اور نئے ولولے پیدا ہورہے ہیں۔ عبادت کی طرف پہلے سے بڑھ کر توجہ ہے قربانی کی روح بیدار ہو رہی ہے اور نئے ولولوں کے ساتھ ، دلوں کے نئے تموج کے ساتھ جماعت شاہراہ اسلام پر آگے بڑھنے کے لئے پہلے سے زیادہ مستعدی سے قدم مار رہی ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کے احسانات ہیں اور یہ جو سلسلہ شروع ہوا ہے یہ تو ابھی انشاء اللہ بہت آگے بڑھنے والا ہے۔ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کچھ ایسے پروگرام ہیں جو بہت دلچسپ ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ جمعہ کے ساتھ ساتھ اگر پہلے یا بعد میں مناسب سمجھا گیا تو وقت بڑھا کر پیش کئے جائیں گے۔ بہر حال ایک بات تو قطعی ہے کہ اللہ ہی کی توفیق کے ساتھ بفضلہ تعالی انشاء اللہ وقت بھی بڑھے گا اور دن بھی بڑھیں گے اور دل تو بڑھنے ہی بڑھتے ہیں۔ احمدیوں کے دل تو بڑھانے کے لئے اور بڑھنے کے لئے بنائے گئے ہیں اور ابھی اس تیز رفتاری سے بڑھ رہے ہیں کہ خدا کے فضل سے آسمان سے باتیں کرنے لگے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ احمدی دل آسمان سے باتوں ہی کے لئے تو بنائے گئے ہیں اور یہ محض محاورہ نہیں میں یقین رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالی تمام دنیا میں کثرت سے احمدی دل اللہ تعالیٰ کی آماجگاہ بن جائیں گے اور جگہ جگہ خدا کی عظمت کے لئے احمدی دلوں میں عرش تیار ہوں گے اور دل بڑھنے کا انسانی محاورے کی رو سے یہ مطلب تو نہیں ہو سکتا کہ واقعہ دل اچھل کر آسمان تک جا پہنچے، ہمارا خدا اتنا مہربان ہے کہ وہ نیچے اتر کر ہم تک پہنچ کر دل بڑھاتا ہے اور ہمیشہ ہر عاجز کے ساتھ اس کا یہی سلوک رہا تبھی حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے معرفت کا یہ نکتہ ہمارے سامنے رکھا کہ جو شخص خدا کے حضور عاجزی کرتا ہے، انکسار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا رفع ساتویں آسمان تک کر دیتا ہے پس ہماری رفعتوں کا تعلق ہماری عاجزی اور انکسار کے ساتھ ہے۔ اللہ ہمیشہ شکر اور حمد کے ساتھ ہمارا سر اپنی چوکھٹ پر جھکائے رکھے اور اسی اللہ کے حضور عاجزی اور انکساری میں تمام رفعتیں ہیں۔