خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 634 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 634

خطبات طاہر جلد ۱۲ صلى الله 634 خطبه جمعه ۲۰ را گست ۱۹۹۳ء محمد رسول اللہ ﷺ جو خدا کا پیغام دے رہے ہیں اس سے پتا چلتا ہے کہ توحید کامل یہ ہے کہ ہر دو وجود مٹ جائے اور فنا ہو تب بھی خدا کی توحید اسی شان کے ساتھ کامل درجے پر قائم رہتی ہے۔ دوسرا پس اس کے بعد فرمایا متقی پرہیز گار بن جائیں ۔ اس وجود کی طرح ہو جائیں جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ رکھتا ہے تو تمہارا ایسا ہو جانا ، میری بادشاہت میں ایک ذرہ بھر اضا فہ نہیں کر سکتا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے سب اگلے اور پچھلے جن وانس تم میں جو سب سے زیادہ بدکار ہے اور اس کے قلب بد نہاد کی طرح ، اس کے گناہگار دل کی طرح سیاہ ہو جائیں ، تو بھی میری بادشاہت میں کسی چیز کی کمی نہیں کر سکتے ۔ سب سے زیادہ گناہگار دل کا ہو جانا بتاتا ہے کہ دل تو گناہوں کا مرکز ہے وہیں سے گناہ پھوٹتے ہیں اور بالآخر اسی کو سیاہ کر جاتے ہیں۔ تو مجسم گناہ بن جائے ، یہ مراد ہے۔ تب بھی میری بادشاہت میں کمی نہیں کر سکتے ۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے سب اگلے اور پچھلے جن وانس ایک میدان میں اکٹھے ہو جائیں اور مجھ سے حاجات مانگیں اور میں ہر ایک کی حاجت پوری کر دوں تو میرے خزانوں میں اتنی بھی کمی نہیں آئے گی جتنی سمندر میں ایک سوئی ڈبو کر اسے باہر نکال دیا جائے اس کے کنارے پر جتنا پانی رہ جاتا ہے اتنی کمی بھی میرے خزانوں میں نہیں آئے گی۔ تم نے جو کچھ مانگنا ہے سب کچھ مانگ لو اور میں سب کچھ عطا کر دوں ۔ (مسلم کتاب البر واصلہ حدیث نمبر: ۴۶۷۴) اسی وجہ سے حضرت اقدس محمد رسول الله للہ ﷺ یہ دعا کے وقت تنگ نظری سے منع فرماتے تھے۔ دعا کرنی ہے تو کھل صلى الله کے مانگو، بہت اچھا مانگو۔ جتنا مانگ سکتے ہو مانگو وہ مالک ہے اتنا ہی دے گا جتنا تم ہضم کر سکتے ہو۔ اس میں ایک پیغام ہے سوئی کے ناکے کی مثال میں جسے ہمیں سمجھنا چاہئے ۔ فرمایا یہ ہے کہ تم سب مانگو میں سب کچھ دے دوں ۔ تب بھی نقصان نہیں کر سکتے تو پھر خدا کیوں نہیں دے دیتا ؟ ہر روز لوگ مانگتے ہیں اللہ دونوں جہانوں کی بادشاہتیں دے دے اور سارے مل کر یہ مانگیں کہ اے خدا ہمیں ساری زمین کی بادشاہت دے دے تو کیا خدا ہر انسان کو یہ دے دے گا اور کیوں نہیں دیتا۔ سوئی کی مثال نے واضح کر دیا ہے۔ خدا کا تم کو عطا کرنا تمہارے ظرف کے مطابق ہوتا ہے۔ دے تو سکتا ہے مگر تم سنبھال بھی سکتے ہو کہ نہیں ، تمہیں اس کی توفیق بھی ہے کہ نہیں ، کتنا ہی وسیع سمندر ہو اس میں سوئی ڈبوؤ گے اور نکالو گے تو ایک معمولی سی فلم اس پر اس سے زیادہ کچھ نہیں بیٹھ سکتا۔ تو ساری عمر سوئی ڈوبی رہے ، ساری عمر سے مراد یہ ہے کہ ہمیشہ ہمیش کے لئے ڈوبی رہے۔ نکلے گی تو اتنا ہی پانی لے