خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 630
خطبات طاہر جلد ۱۲ 630 خطبه جمعه ۲۰ را گست ۱۹۹۳ء واقعہ روایت غلط لکھی گئی تھی۔ حضرت ابو بکر کا معروف نام ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ابن ابی قحافہ کے نام سے یا ابن ابو قحافہ کے نام سے آپ کی کنیت تھی اور اسی نام سے آپ معروف تھے۔ صلى الله اس کے بعد جو روایت کا حصہ ہے میں کچھ پہلا حصہ ساتھ ملا کر پڑھتا ہوں ۔ ثم اخذ يرتجز أعل هبل اعل هبل قال النبى صلى الله عليه وسلم الا تجيبونه قالوا يارسول الله ما نقول قال قولوا الله اعلى واجَلّ قال ان لنا العزى ولا عزى لكم فقال النبي صلى الله عليه وسلم الا تجيبونه قالوا يارسول الله مانقول قال قولوا الله مولانا ولا مولى لكم (مسند احمد حدیث نمبر : ۱۷۸۵) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ جب ابو سفیان نے زجر شروع کی تو زجر میں اس نے یہ کہا أعل هبل اعل هبل بلند ہو صبل کا نام بلند ہو صبل کا نام، حضرت اقدس محمد رسول الله اللہ ﷺ ﷺ اس وقت تک احتیاط کے تقاضوں کے پیش نظر خاموش رہنے کی تلقین فرما رہے تھے آپ نے بے اختیار صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم جواب کیوں نہیں دیتے ، کیا تم اس کا جواب نہیں دو گے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہاں! کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ ۔ مگر کیا جواب دیں ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ جواب دوالله اعلی واجل ، اللہ سب سے بلند ہے اور اللہ سب سے زیادہ روشن ہے، سب سے زیادہ نمایاں ذات ہے اس کی جو چھپائی نہیں جاسکتی ۔ اس پر ابوسفیان نے یہ اعلان کیا کہ ان لنا العزى ولا عزیٰ لکم کہ ہمارے خداؤں میں تو عزی نام بھی آتا ہے اس عزمی کی تائید بھی ہمارے شامل حال ہے اور تمہارا کوئی عربی نہیں ہے، کسی عربی سے تم مدد نہیں مانگ سکتے ہو۔ پھر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ یہ بے چین ہوئے اور فرمایا کیا تم ان کو جواب نہیں دو گے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ کیا جواب دیں ؟ فرمایا کہو الله مولانا ولا مولی لکم اللہ ہمارا مولا ہے اور تمہارا کوئی مولا نہیں ہے۔ الله صلى الله اس ضمن میں ایک اور تصحیح بھی کروں ، میں نے روایت میں جوز بانی یاد تھی اس وقت ، یہ کہا تھا کہ غالباً ابن مسعود کی یہ روایت ہے جس میں غلام کو مارنے کا ذکر ہے۔ غالبا احتیاطاً کہا تھا کہ مجھے پوری طرح یاد نہیں تھا۔ مسعود نام یاد نہیں تھا ، یاد تھا لیکن یہ نہیں پتا تھا کہ ابو مسعود ہیں کہ ابن مسعود ۔ تو میں نے تحقیق کروائی تو پتا چلا کہ وہ روایت ابو مسعود کی ہے۔ ابن مسعود ضمنا میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ان ابتدائی صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے بہت