خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 608 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 608

خطبات طاہر جلد ۱۲ 608 خطبه جمعه ۱۳ را گست ۱۹۹۳ء صلى الله نے وہم کیسے کیا کہ میں چوروں میں شمار ہو سکتا ہوں لیکن عربی میں جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مشرکین میں سے نہیں ہے جس طرح خدا اپنے متعلق فرماتا ہے میں ظلم کرنے والا نہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ شرک کا کوئی ذرہ بھی کوئی شائبہ بھی اس میں نہیں پایا جاتا تھا۔ کلیہ نفی ہے اس لئے وہاں وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بہت بڑی تعریف کا کلمہ بن جاتا ہے کہ ابراہیم کی ذات میں شرک کا ادنی سا شائبہ بھی نہیں تھا۔ اس کا وجود شرک سے کلیہ پاک تھا۔ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِى وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام سے متعلق منفی رنگ میں جو تعریف فرمائی گئی یعنی ابراہیم میں شرک کی کوئی آمیزش نہیں تھی ، اس کا مثبت پہلو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات میں ثابت کر کے دکھایا گیا۔ یہ آنحضرت ﷺ کی بہت ہی عظیم تعریف کا ایک رنگ تھا جو اللہ تعالیٰ نے اختیار فرمایا۔ ابراہیم علیہ السلام کو شرک سے پاک قرار دینے کے بعد حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو ان مقامات پر فائز دکھایا گیا جو شرک سے پاک ہونے کے بعد عطا ہوتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا ۔ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِى ۔ دیکھو میری تو تمام تر عبادتیں اور ہر قسم کی قربانیاں - وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي - میرا جینا ، میرا مرنا، میری زندگی ، میری موت سب کچھ اللہ کے لئے ہو چکا ہے۔ پس شرک کی نفی انسان کو جس چیز کے لئے تیار کرتی ہے۔ وہ تمام صفات حسنہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ میں پائی جاتی تھیں یعنی پہلے غیر اللہ سے تختی صاف کی، پھر اس سختی پر ہر جگہ خدا کے رنگ بھر دیئے۔ یہ توحید کا وہ مضمون ہے جس سے متعلق آج میں کچھ اور امور آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں لیکن اس سے پہلے کچھ دوسری باتیں جو ہفتے کے دوران ہوتی رہتی ہیں وہ اپنی طرف توجہ کھینچتی ہیں اور حق رکھتی ہیں ان کا ذکر ضرور کیا جائے ۔ اس سلسلہ میں جماعت احمد یہ ناروے کی طرف سے مجھے یہ تاکیدی پیغام ملا ہے کہ ہماری به فضل عمر تعلیم القرآن کلاس آج ۱۳ اگست سے شروع ہو کر ۱۵ اگست تک جاری رہے گی ۔ اس موقع پر ہمیں بھی پیغام بھیجیں تا کہ ہمارے دل خوش ہوں۔ سالانہ عمر مجلس خدام الاحمدیہ فرانس کا ساتواں سالانہ اجتماع ۱۴ / اگست یعنی کل سے شروع ہورہا ہے۔ یہ اجتماع دوروزہ ہے اور صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ نے خواہش کی ہے کہ آپ خود تشریف لائیں ورنہ پھر کم سے کم خطبہ میں تو ضرور ذکر کریں۔ یہ دوسرا پہلو ہے جو میں انشاء اللہ قبول کر سکتا ہوں۔