خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 605
خطبات طاہر جلد ۱۲ 605 خطبه جمعه ۶ را گست ۱۹۹۳ء ہے بس دعا خدا سے کی جاتی ہے اور خدا کے مقابل پر کوئی نہیں ہے جو فرما سکے۔ دعا کے ساتھ عجز کا مضمون ہے۔ پس چاہے آپ اپنے دماغ میں کسی کو کتنا بڑا سمجھیں اس کو یہ کبھی نہ کہا کریں دعا فرمائیں۔خدا کے دماغ کو کتاب اسکو نہ کہا دعا خدا حضور عرض کریں یہی اس شخص کی عزت ہے جس کو آپ مخاطب کرتے ہیں اگر سچی عزت چاہتے ہیں تو اس کی عاجزی کے حوالے سے دعا کی درخواست کیا کریں اور اسی طرح جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اللہ ہی چاہتا ہے اور کوئی کچھ نہیں ہوتا۔ یہ بھی نہیں کہنا چاہئے کہ آپ کی دعاؤں کی برکت سے یہ ہوا۔ کیا پتا اللہ تعالیٰ نے کسی طرح فرما دیا۔ آدی یہ کہہ سکتا ہے شکریہ جزاک اللہ آپ نے دعائیں کیں اور اللہ نے اپنا فضل فرمایا۔ یہی توحید خالص ہے جس کی ہمیں ہمیشہ حفاظت کرنی چاہئے۔ صلى الله بعض دفعہ ایک شخص کے سامنے آ کر لوگ مرعوب ہو کر ڈر جاتے ہیں کا پینے لگتے ہیں اور کئی مخلصین سادہ لوح ایسے آتے ہیں۔ میرے پاس بھی آتے ہیں جو مرعوب ہو جاتے ہیں ان کو میں بڑے پیار سے گلے لگاتا ہوں دل بڑھاتا ہوں تھوڑی دیر میں وہ باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں پھر جا کر لکھتے ہیں ہم تو سمجھتے تھے پتا نہیں کوئی بات ہوگی بھی کہ نہیں۔ آپ تو عام آدمی ہی ہیں، انسانوں کی طرح ہی ہیں ان کو کیا پتا کہ شاید میں عام انسانوں سے بھی گرا ہوا ہوں گا لیکن اللہ کا احسان ہی ہے جس نے اپنے ایک منصب پر کھڑا کیا اس منصب کی غیرت رکھتا ہے اس لئے پردے ڈھانچے ہوئے ہیں ۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک تا ہے کہ ایک شخص آنحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ آپ کے رعب سے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ اس کے کندھے اس خوف سے کہ میں کس کے حضور حاضر ہو گیا ہوں بڑے جوش کے ساتھ ہل رہے تھے۔ آپ نے اس کو فرمایا مجھ سے مت ڈرو میں قریشی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی۔ کیسا پیارا کلام ہے مجھ سے نہ ڈرو میں تو ایک قریشی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی (ابن ماجہ کتاب الاطعمہ باب القديد ) جو بھی آپ کے حضور پہنچتا تھا دیکھتے دیکھتے آنحضور اُس کے دل تک اتر آئے تھے۔ کیونکہ آنحضور تک پہنچنا ناممکن تھا، ناممکن ہے نا ممکن رہے گا۔ اللہ بھی تو آپ پر اترا تھا۔ ایک حد تک انسان ایک بلند انسان تک جا سکتا ہے۔ اس کے بعد دوسرے کو اتر نا پڑتا ہے۔ پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھیں کیسی عارفانہ بات فرمائی جب فرمایا معراج تو قلب محمد پر ہوا تھا یہ وہ عرش الہی تھا جس پر خدا اتر اتھا۔ واقعہ یہی ہے ورنہ انسان کو کیا طاقت کہ وہ اڑانے کر سکے، یہ ہو ہی نہیں سکتا جب خدا ہر جگہ ہے تو جس دل پر وہ اتر آئے ، جس دل کو وہ اپنی