خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 586
خطبات طاہر جلد ۱۲ 586 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۹۳ء اور دنیا پہچان لے گی کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے غلام ہیں کیونکہ یہ شان شانِ محمدؐ کی ہے کہ وہ اپنے ارد گرد تزکیہ فرماتی ہے۔ پھر تعلیم کتاب ہے کثرت کے ساتھ دنیا کو قرآن کریم کی تعلیمات سے آگاہ کریں ۔ جس طرح کہ ہم دنیا میں مختلف زبانوں میں قرآن کریم شائع کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں ۔ صرف یہی نہیں بلکہ قرآن کریم کو پڑھیں ، ان کی تعلیمات سے واقف ہوں اور پھر زبانی آنحضور ﷺ کے غلام ہوتے ہوئے اس نمائندگی میں دنیا کو قرآن کی تعلیم دیں اور پھر حکمتوں کو خود بھی سمجھیں اور دنیا کو بھی سمجھائیں۔ صلى الله کوختم کرتا یہ حکمت کا مضمون ایسا ہے جس کے متعلق ایک بات سمجھا کر پھر میں آج اس خطبے کو ختم ک ہوں کیونکہ وقت ختم ہو رہا ہے۔ حکمت کے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اتفاقاً انسان کو پیدائشی مل جاتی ہے۔ کوئی بیوقوف پیدا ہو گیا ، کوئی صاحب حکمت پیدا ہو گیا۔ پھر بعض دفعہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم سے حکمت عطا ہوتی ہے لیکن میں نے بہت گہرائی سے، تفصیل سے اس مضمون کا جائزہ لیا ہے۔ حکمت تقوی سے پیدا ہوتی ہے۔ باقی سب حکمتیں جھوٹی ہیں۔ انتہائی سادہ اور بظاہر بیوقوف اور غیر تعلیم یافتہ آدمی دکھائی دیتا ہوگا۔ اگر وہ متقی ہے تو ہمیشہ حکمت کی بات کرے گا۔ اگر غیر متقی ہے تو خواہ کتنا ہی چالاک ہو ، کتنا ہی زبردست عالم کیوں نہ ہو، اس کے منہ سے سچی بات نہیں نکلے گی۔ گہری حکمت کی بات اس کے منہ سے نہیں نکلے گی ۔ ادنی سرسری چالاکیاں ہوں گی جو اس کو بھی فائدہ نہیں دے سکتیں اور بنی نوع انسان کو بھی فائدہ نہیں دے سکتیں۔ پس ہم سب حکمت کے حصول کی اہلیت رکھتے ہیں۔ پہلی تین نشانیاں آیت کی اگر ہماری ذات میں پوری ہو جائیں تو حکمت اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا طبعی ایک نور کا شعلہ ہے جو اٹھے گا اور آپ کے دل ودماغ کو روشن کر دے گا۔ یہ وہ مضمون ہے جو میں سمجھا کر آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ جلسہ سالانہ پر اور بھی بہت سی آپ کی تعلیم وتربیت کی باتیں ہوں گی ۔ اس خطبے کو ختم کرنے سے پہلے یہ عرض کروں گا کہ یہ ایک الہی اجتماع ہے دین کی محبت میں اللہ اور اسلام کی باتیں کرنے کے لئے اللہ اور رسول کے تذکروں کی خاطر یہ اجتماع ہوا ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس موقع سے پورا فائدہ اٹھائیں بلکہ جلسہ سے نکلنے کے بعد بھی اپنے ماحول میں یہی باتیں کرتے رہیں ۔ دن رات ایسے ہی تذکرے کریں اور یاد رکھیں کہ اگر آپ اپنے وقت کو گپوں میں ضائع کریں گے اور محض میلے کے طور پر اس جلسے کو لے لیں گے تو