خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 582 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 582

خطبات طاہر جلد ۱۲ 582 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۹۳ء مذہبی قو میں محض کتاب سے زندہ نہیں رہا کرتی تھیں، مذہبی قوموں کو سنبھالنے کے لئے متقی علماء کی ضرورت ہے، پاک نمونہ دکھانے والوں کی ضرورت ہے، ربانی اولیاء کی ضرورت ہے جو قوم کے نہ دکھانے والوں کی ضرور ایمان کو زندہ رکھتے ہیں ۔ اگر علماء کا دل ایمان سے عاری ہو جائے ، اگر وہ مطلب پرست ہو جائیں، سے ہو ، وہ اگر وہ خود غرض ہو جائیں ، اگر ان کو اپنی غرضیوں میں دلچسپی ہو، دین کی حالت میں دلچسپی نہ ہو تو ایسے علماء کی بدنصیبی ہی سے قو میں تنزل اختیار کیا کرتی ہیں۔ پس تنزل کا جو نقشہ حضور اکرم ﷺ نے کھینچا ہے وہ اچانک کسی ایک سال میں پیدا ہونے والا تنزل تو نہیں ہے۔ یعنی اسلام نام کو رہ جائے گا، قرآن صرف لکھنے کے لئے مسجدیں آباد مگر ہدایت سے خالی ، کیا یہ آفت ایک ہی دن میں آ پڑی۔ ہر گز نہیں یہ تو صدیوں کے جرائم کے ارتکاب کے نتیجے میں پیدا ہونے والا مضمون ہے۔ صدیوں کا ظلم ہے جو اس اندھیری رات پر منتج ہوا ہے اور رفتہ رفتہ بدیوں اور فسق میں جو اجتماعی بھیا تک شکل اختیار کی اور بھیانک ہے اس کا نقشہ ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کھینچ رہے ہیں تو علماء کے ہوتے ہوئے یہ سب کچھ ہو گیا جن کے سپر د دین کی باگ ڈور کی گئی تھی ، وہ دیکھتے رہے اور ان کی آنکھوں کے سامنے یہ سب ہو گیا اور ایک سال میں نہیں ہوا ، دس سال میں نہیں ہوا، ایک سو سال میں بھی نہیں سینکڑوں سال تک مسلسل یہ علماء ایک نسل کے بعد دوسری نسل میں پیدا ہوتے رہے اور اس تنزل کے راہ میں روک نہیں بن سکے بلکہ ان کی بداعمالیاں اور ان کی خود غرضیاں اس تنزل کو تیزی سے آگے بڑھانے کا موجب بنیں۔ یہ ساری دردناک کہانی حضور اکرم ﷺ نے اس ایک جملے میں بیان فرمادی۔ لماء هم شر من تحت اديم السماء بڑی بدنصیب قوم ہوا کا م ہوا کرتی ہے جس کی لیڈرشپ خراب ہو جائے اور جس کی لیڈرشپ ایسی خراب ہو کہ اسلام جیسے دین کو گرتے گرتے یہاں تک پہنچا دے کہ خدا کا رسول یہ گواہی دے کہ زمین سے ایمان اٹھ کر ثریا پر جا پہنچا۔ اتنی بڑی آفت ، ایسی بڑی قیامت جو ایک عالمگیر قوم پر ٹوٹی ہو جو اس کے ذمہ دار ہیں ، اس کو شر من تحت اديم السماء کے سواکسی اور لقب سے یاد نہیں کیا جا سکتا۔ پس ایسی صورت میں جبکہ علماء اس لائق نہ رہیں کہ وہ دین کو دوبارہ اپنے پہلے حال کی طرف لوٹا سکیں، پہلے زمانے سے آئندہ آنے والے زمانوں کو ملا سکیں ۔ کیسے پھر یہ ہوگا ؟ فرمایا ذلك فَضْلُ اللہ اللہ کا فضل ہی ہے جو نازل ہوگا ۔ اللہ کا فضل ہی ہے جو ایسے بندے کو پیدا کرے گا جو