خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 578
خطبات طاہر جلد ۱۲ 578 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۹۳ء والے کے متعلق نہیں ملتا۔ پس بعثت محمد مصطفی ﷺ سے اس مضمون کا تعلق ہے یہ بعثت اس رنگ میں صلى الله عروسه جلوہ افروز ہوئی کہ اولین کو خدا روز ہوئی کہ اومین کو خدا سے ملا دیا اور پھر دوبارہ۔ اور پھر دوبارہ یہی بعثت محمد مصطفی ایک نیا جلوہ ، ایک نئی شان کا جلوہ دکھائے گی کہ آخرین کو بھی اولین سے ملا دے گی یعنی اولین کی طرح آخرین کو بھی خدا سے ملا دیا جائے گا۔ یہ وہ مضمون ہے جو تعجب پیدا کرتا ہے۔ اتنی دور کے لوگوں کو کس طرح اولین سے ملایا جائے گا آخر اس کا طریق کار کیا ہوگا ؟ دیا۔ پس حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے جب اس سوال کو سنا تو پہلے اعراض فرمایا، جواب نہ صلى الله ۔ پھر سوال کرنے والے نے دہرایا۔ پھر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کون لوگ ہوں گے؟ جن کا ذکر صلى الله واوسه۔ عروسه صلى الله مل رہا ہے۔ آنحضور ﷺ نے پھر اعراض فرمایا اور اس کا جواب نہ دیا۔ آنحضرت ﷺ کا اعراض فرمانا دو حکمتیں اپنے اندر رکھتا تھا جو سلسل آپ کی سنت سے ثابت ہے۔ اوّل یہ کہ سوال جاہلا نہ ہو اور قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق جاہلوں سے اعراض کا حکم ہے۔ دوسرے یہ کہ سوال ایسا ہو جس کے لئے وحی الہی کی روشنی کی ضرورت ہو۔ ایسے مضامین سے تعلق رکھتا ہو کہ جب تک آسمان سے نئی روشنی نازل نہ ہو اس کا صحیح جواب نہیں دیا جا سکتا۔ پس ان سوالوں سے اعراض اس دوسرے حصے سے تعلق رکھتا ہے۔ چنانچہ ا چنانچہ ایسا ہی ہوا جب تیسری مرتبہ حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کے حضور یہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ وہ کون لوگ ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا لو كان الايمان عند الثريا لناله رجال او رجل من هولاء ۔ (بخارى كتاب التفسير تفسير سورة الجمعة باب قوله تعالى و اخرين منهم لما يلحقوا بهم ) کہ دیکھو اگر ایمان ثریا پر بھی چلا گیا ان لوگوں میں سے کچھ ہوں گے یا ان لوگوں میں سے ایک مرد کامل اٹھے گا جو ثریا سے ایمان کو کھینچ کر دوبارہ زمین پر لے آئے گا۔ اس سے فیض یافتہ لوگوں کا ذکر ہے جو لوگ اس سے فیض پائیں گے وہی ہیں جو اولین میں ملیں گے یہ مضمون اس میں شامل ہے۔ جب فرما يا هولاء تو کیا مطلب ہے کن لوگوں میں سے۔ آنحضور ﷺ کی خدمت میں اس صلى الله وقت تمام عرب صحابہ موجود تھے لیکن ایک غیر عرب بھی تھا جس کا نام سلمان فارسی ہے۔ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے کسی عرب صحابی کے کندھے پر ہاتھ نہ رکھا بلکہ اس ایک کے کندھے پر ہاتھ رکھا جو تنہا مجھی اس مجلس میں موجود تھا۔ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا لو كَانَ الإِيمَانِ عِنْدَ الثَّرَيَّا لَنَا لَهُ رِجَالٌ اَوْ رَجلٌ مِّنْ هَؤُلَاءِ۔ ان میں سے ہوں گے یا ان میں سے ہو گا جو آسمان