خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 570 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 570

خطبات طاہر جلد ۱۲ 570 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۹۳ء ایسے ممالک سے دوست تشریف لائے ہیں۔ جن کو اس سے پہلے احمدیت کا پیغام نہیں مل سکا تھا اور اب وہ عالمی بیعت میں شمولیت کی نیت سے اپنے نمائندوں کے ذریعے اس اجتماع میں شامل ہور ہے ہیں اور آج کے خطبے میں شامل ہیں ۔ اسی طرح خطبات کا جو سلسلہ عالمی مواصلاتی سیاروں کے ذریعے تمام دنیا میں منتشر ہوا ہے۔ اس سے پہلے اس کثرت سے Antinas کا انتظام نہیں تھا کہ افریقہ کے اہم ممالک میں دور و نزدیک انٹینا کے ذریعے خطبات کو براہ راست سنا اور دیکھا جا سکے لیکن اب اس سلسلے میں اتنے ٹھوس ، معین قدم آگے بڑھائے جاچکے ہیں کہ آج کے اس خطبے میں لاکھوں کی تعداد میں افریقن بھی خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ اس پیغام کو سن رہے ہوں گے اور ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو نئے ہیں ان باتوں کی تکرار ضروری ہے جو ان آیات کریمہ میں مذکور ہیں ۔ صلى الله مختصراً اس کا پس منظر یہ بتاتا ہوں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جہاں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی صفات حسنہ بیان فرمائیں اور آپ کے کاموں سے متعلق معین طور پر ہمیں خبر دی کہ یہ چار بنیادی کام ہیں جو آپ نے کرنے ہیں اور کر رہے ہیں۔ وہاں آخرین میں ظاہر ہونے والے ایک سلسلے کا بھی ذکر فرمایا جو حضرت اقدس محمد مصطفی ے سے زمانے کی دوری کی وجہ سے براہ راست فیض یافتہ نہیں ہو سکتا لیکن اللہ تعالیٰ کچھ ایسا انتظام فرمائے گا کہ اسی رسول کا فیض اس دور کے زمانے صلى الله میں اس شان اور اس وضاحت کے ساتھ پہنچے گا کہ گویا وہ لوگ دور کے زمانے میں پیدا ہونے کے با وجود اولین سے آملے ہیں ۔ یہ دو باتیں ہیں بنیادی طور پر جو ان آیات میں بیان ہوئی ہیں وہ چار کام کیا ہیں ۔ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آلته یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو آیات ان کو عطا برد - ہوتی ہیں ۔ وہ ان لوگوں کو پڑھ کر سناتے ہیں جو اس سے پہلے جاہل اور بے خبر تھے ۔ وَيُزَيْهِمْ اور آپ میں عظیم قوت قدسیہ پائی جاتی ہے۔ آیات کی تلاوت کے ساتھ ہی آپ ان کو پاک کرنے لگتے ہیں۔ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ اور پھر کتاب کی تعلیم دیتے ہیں۔ آیات اور کتاب کی تعلیم میں فرق یہ ہے کہ آیات ، کتاب کے مضامین یعنی شریعت کے مضامین کے علاوہ بھی بہت سے روحانی مضامین پر مشتمل ہوتی ہیں اور جب خصوصیت سے الکتب کہا جائے تو یہاں وہ فرائض اور نواہی