خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 536 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 536

خطبات طاہر جلد ۱۲ 536 خطبہ جمعہ ۱۶ جولائی ۱۹۹۳ء کون سی محبت ہے جو شرک کہلائے گی ؟ اور وہ کون سی محبت ہے جو شرک نہیں بلکہ توحید کے دامن میں اس کی رحمت کا ایک نشان ہے یہ مضمون کھل کر آپ کے سامنے آنا چاہئے اس کا جماعت کی بقاء کے ساتھ اور جماعت کی وحدت کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ جہاں تک سوال کا تعلق ہے وہ یہ تھا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں شرک کو بخشا نہیں اور ساری در دنیا میں بے شمار مذاہب ہیں جن کا شرک کے ساتھ تعلق ہے۔ عیسائیت بھی مشرک ہو چکی ہے اور دیگر سب مذاہب بھی کیا ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں یہ سارے جہنمی ہیں؟ اس کا میں نے جو جواب دیا وہ خلاصہ آپ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ سوال مختلف ملکوں میں اٹھ سکتا ہے اور جماعت کے سامنے پیش ہوتا رہتا ہے کسی کے جہنمی ہونے کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے جہاں تک شرک کا تعلق ہے یاد کا صلى الله مشرک رکھیں کہ بہت سے توحید پرست مذاہب ہیں جن میں شرک داخل ہو چکا ہے اور : ہو چکا ہے اور بہت سے " مذاہب ہیں جن میں موحد ملتے ہیں اس لئے عمومی فتوی لگا کر کسی مذہب کے پیروکاروں کو کلیہ جہنمی یا کلیہ جنتی قرار دینا انسان کا کام نہیں ۔ دوسرے شرک اور توحید دونوں کے اندر تہہ در تہہ مقامات اور منازل ہیں اور وہ دلوں کے اندر طبقہ بہ طبقہ بٹے ہوئے ہوتے ہیں بعض دفعہ ایک موحد کے دل کو کریدیں تو نچلی سطح پر جا کر شرک کا بیج بھی دکھائی دے گا ۔ گویا شرک کی ایک سطح پر بظاہر توحید کی عمارت تعمیر ہو رہی ہے۔ بعض دفعہ توحید غالب رہتی ہے۔ یہ ایک ہی بار یک مضمون ہے جس کا تعلق عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ (الرعد : ۱۰) سے ہے اور صرف اللہ جانتا ہے کہ حقیقت میں کون موحد ہے اور کون مشرک ہے۔ جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے آنحضرت ﷺ کی سنت کے حوالے سے ہمیں شرک کو سمجھنا چاہئے اور توحید کو سمجھنا چاہئے اور ان دونوں کے درمیان فرق بین ہمیں معلوم ہونا چاہئے اور پوری کوشش ہونی چاہئے کہ ہمارے اندر شرک کا کوئی شائبہ بھی پیدا نہ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ ہی ہے جو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، وہی قادر ہے، وہ جس کو چاہے بخشے جس کو چاہے معاف کرے، جس کو چاہے سزادے اور اس کے بعد یہ دعا کہ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ إِلَيْكَ الْمَصِيرُ (البقره :۲۸۲) پس اے ہمارے رب ہم بخشش کے لئے تیری طرف دوڑتے ہیں و۔ وَ إِلَيْكَ الْمَصِيرُ جانا تیری ہی طرف ہے اور کسی طرف جانا ہی نہیں جب بالآخر تیری طرف ہی لوٹنا ہے تو بخشش اور کس سے مانگیں جبکہ اور ہے بھی کوئی نہیں ۔