خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 521
خطبات طاہر جلد ۱۲ 521 خطبہ جمعہ ۹ رجولائی ۱۹۹۳ء كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا کوئی جان بھی ایسی دکھائی نہیں دے گی جو اپنے روزمرہ کے اعمال کی ذمہ دار نہ بنتی ہو اور جب وہ غلطی کرتی ہے تو اس کی سزا بھگتی ہے۔ دوسرا پہلو خصوصیت سے گناہوں سے تعلق رکھنے والا ہے۔ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ آخری روحانی دنیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پہلی دلیل روحانی قانون کو تقویت دینے کے لئے اور یہ سمجھانے کے لئے قائم کی گئی ہے کہ جب تم کا ئنات میں یہ دیکھ رہے ہو کہ ہر شخص اپنی غلطیوں کا ، اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے جو کچھ وہ کماتا ہے ویسا ہی اس کو ملتا ہے تو یا د رکھو کہ یہی وہ قانون ہے تو جو مذہبی دنیا میں جاری وساری ہے لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْری یہ تمہارا وہم ہے کہ تمہارے بوجھ کوئی اور اٹھا کر چلے گا۔ قیامت کے دن ہر شخص اپنے گناہوں کا، اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہوگا اور کوئی دوسرا اس کے بوجھ اٹھانے والا نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ مائیں اپنے بچوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکیں گی ، بہنیں اپنے بھائیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکیں گی، خاوند اپنی بیویوں کے بوجھ نہیں اٹھا سکیں گے، ہر شخص اکیلا اکیلا رہ جائے گا اور اسی مضمون کو یوں بیان فرمایا گیا کہ جیسے تم دنیا میں اکیلے آئے تھے اسی طرح اکیلے اکیلے خدا کے حضور حاضر ہو گے اور تمہارا اور کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ ثُمَّ إِلى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ پھر ایسی حالت میں تم نے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُونَ اور تم کو ان امور کے متعلق بتائے گا جن میں تم اس دنیا میں اختلاف کیا کرتے تھے۔ توحید کی یہ تعلیم قرآن کریم نے ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے صلى الله عروسه ، معاً بعد عملی طور پر توحید کا علمبردار حوالے سے حضرت اقدس محمد مصطفی علی کو سکھلانا د مصطفی کو سکھلائی اور اس کے معاً بعد اصلى الله ) حضرت محمد مصطفی کو پیش کر کے ابراہیم کا صلى الله علوم عروسه لر کے ابراہیم کا حوالہ چھوڑ دیا اور تمام تر ذکر حضر ر حضرت محمد مصطفی علی کا شروع ہو گیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا توحید کا مقام غیر معمولی تھا اس لئے اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ذکر کے ساتھ تاریخی طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نام زندہ رکھا جاتا ہے صلى الله اور یہ بائیبل کی پیشگوئی بھی تھی کہ آئندہ آنے والا ایک ایسا نبی ہوگا جس کی وجہ سے آخرین میں تیرے نام پر سلام بھیجا جائے گا۔ پس اسی پیشگوئی کا مصداق حضرت ابراہیم علیہ السلام بنے اور اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ اس طرح پورا فرمایا کہ توحید کے مضمون کو جہاں جہاں بھی ملتا ہے الا ماشاء الله ابران اللہ ابراہیم کے نام کے ساتھ باندھا گیا ہے یا آپ کی صفات کے نام کے ساتھ باندھا گیا ہے۔ حَنِيفًا جب فرمایا