خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 506
خطبات طاہر جلد ۱۲ 506 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۳ء زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کروں کہ قاری کو کچھ نہ کچھ تو اس کے حسن کا بھی اندازہ ہو کہ یہ ہے کیا کلام ۔ اس لئے اگر اصل مضمون سے میں ذرا سا ہٹ جاؤں تو غلط مضمون تو غلط مضمون تو بیان نہیں کروں گا لیکن لفظاً لفظا ساتھ نہیں چل سکوں گا ۔ یہ معذرت کرتے ہوئے میں یہ کوشش کرتا ہوں کہ انگریزی دان طبقہ یہ دیکھ سکے کہ قرآن کریم کی اصل زبان میں کتنی عظمت ہے۔ کتنا عظیم الشان کلام ہے جو کیسا دل پر اثر کرتا ہے۔ اس پہلو ؟ سے انہوں نے جو ترجمہ کیا ہے اس پر سب سے پہلے مجھے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے مطلع کیا تھا۔ جب میں ۱۹۷۸ء میں انگلستان آیا تو مجھے یاد نہیں کہ پہلا انہوں نے مجھے تحفہ دیا تھا کہ ان کے ذکر پر میں نے خود خریدا تھا مگر واقعہ ترجمہ کے بعض حصے ایسے ہیں جس سے قرآن کریم کی زبان کی اس حد تک خدمت ضرور ہوئی ہے کہ زبان کے اثر کو منتقل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اردو میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام اتنا پر اثر ہے اور اتنی گہری تأثیر رکھتا ہے کہ بعض دفعہ ایک ایک شعر دل کی کایا پلٹ دیتا ہے، بعض دفعہ عبارت کا ایک ٹکڑا انسان کے اوپر ایسا وجد طاری کر دیتا ہے کہ اس کی زندگی میں ایک روحانی انقلاب برپا ہو سکتا ہے مگر اس کا دوسری زبانوں میں ترجمہ پڑھ کے دیکھ لیں اس کا عشر عشیر بھی اثر نہیں ہے۔ تو ہمارے نو مسلم احمدی بھائیوں کو کیوں اس سے محروم رکھا جائے ، ہرگز نہیں رکھنا چاہئے اور یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ عالمی وحدت اور عالمی بھائی چارہ پیدا کرنے میں زبانیں ایک بہت بڑا کردار ادا کیا کرتی ہیں۔ اگر ناروے میں احمدی بچے نارویجین سیکھیں اور ان کے ساتھ نارو جین کے لحاظ سے یکجہتی پیدا کر لیں ۔ ہم آہنگی پیدا کر لیں تو ایک جگہ جماعت احمد یہ اور ناروے کے درمیان اتحاد ہو جائے گا اگر نائیجیریا میں ، یورو با زبان میں یہ اتحاد قائم ہو جائے تو وہاں اتحاد ہو جائے گا۔ مگر عالمی وحدت تو پیدا نہیں ہوگی۔ چین میں جو اتحاد ہوگا تو وہ چین تک محدود رہے گا، اگر جاپان میں ہو گا تو جاپان تک محدود رہے گا۔ عالمی وحدت کے لئے کسی ایسی زبان کا رشتہ ہونا ضروری ہے جو ایک وسیع تر برادری کے رشتے میں قوموں کو منسلک کر سکے اور اس پہلو سے یہ دو زبانیں ہیں جنہوں نے لازماً اپنا کردار ادا کرنا ہے اول عربی اور اس کی اہمیت پر جتنا زور دیں اتنا ہی کم ہے اور دوسرے اردو زبان کیونکہ اردو زبان میں عربی ہی کے مضامین کو ایک عظیم الشان اور ایک نئی شان کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس نظر سے محمد رسول ﷺ کو دیکھا ہے اس کو اردو ا ہے اس کو اردو میں بیان فرمایا ہے اور اس نظر سے دیکھے بغیر وہ حسن کامل طور پر صلى الله