خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 47 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 47

خطبات طاہر جلد ۱۲ مسائل سے کیسے نپٹتا ہے۔ 47 خطبه جمعه ۱۵ جنوری ۱۹۹۳ء صلى الله ۔ پس ا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا یہ ارش علی کا یہ ارشاد میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس میں ان سب مسائل کی کنجی موجود ہے آپ نے فرمایا کہ اپنے بھائی سے محبت کرو اور اس کی مدد کرو ۔ انصر اخاک ظالما او مظلوما ۔ (بخاری کتاب الاکراه حدیث نمبر : ۶۴۳۸ ) اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو خواہ وہ مظلوم ہو اب یہ حصہ سن کر ایک دم انسان کا ضمیر جھنجھوڑا جاتا ہے اور فورا یہ رد عمل پیدا ہوتا : ہے کہ ہیں ! ظالم کی مدد؟ بھائی کی مدد تو ضروری ہے یہ بات تو سمجھ آجاتی ہے لیکن بھائی ظالم بھی تو ہو سکتا ہے پھر کیا کریں گے ہاں ظالم کی مدد کرو مگر ظالم کی مدد اس کے ظلم کے ہاتھ روک کر کرو۔ کتنی عظیم ملتا الشان تعلیم ہے جو عصبیت کی تعلیم کی بجائے اچانک ایک دم عالمگیر ہوتی ہوئی نظر آجاتی ہے۔ پہلا فقرہ سن کر لگتا تھا کہ عصبیت کی تعلیم دی جا رہی ہے جب اس کی تشریح سنی تو یوں لگا کہ یہ تو ایک حیرت انگیز عالمگیر تعلیم ہے اس کے سوا انسانی مسائل کا حل ممکن ہی نہیں ہے۔ میں نے خدا کے فضل سے دنیا کے بہت سے مذاہب کا مطالعہ کیا ہے مگر ایسا خوبصورت موتی میں نے کسی اور سمندر میں نہیں پایا، ایسا عظیم الشان جوہر ہے جو اپنی چمک میں ایسی تابانی رکھتا ہے کہ کل عالم کو روشن کرنے کی استطاعت رکھتا ہے اس تعلیم کو اگر دنیا میں جاری کیا جائے تو وطن کی محبت سے ٹکرائے بغیر انسان کی خدمت کی جاسکتی ہے اور ظلم کے خلاف احتجاج کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً امریکہ کا احمدی جو اس وقت میری بات کو سن رہا ہے اس سے میں یہ کہوں گا کہ اپنی وطن کی محبت کو قربان نہ کرو لیکن حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے اس ارشاد کی تعمیل میں اپنے بھائیوں کے ہاتھ ظلم سے روکنے کے لئے جہاد کرو امریکہ جو غیر قوموں پر ظلم کر رہا ہے اور دن بدن زیادہ رعونت کا مظاہرہ کر رہا ہے اگر تم اپنے وطن سے محبت کرتے ہو تو سب سے پہلے تمہارا فرض ہے کہ تم امریکہ کے ہاتھ روکنے کی کوشش کرو اگر انگلستان کسی اور ملک پر ظلم کرتا ہے تو انگلستان کے احمدیوں کا فرض ہے اور اولین فرض ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے بھائیوں کو بتائیں کہ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارے ملک پر ظلم کا داغ لگے اور اس طرح ان کے ہاتھ روکنے کی کوشش کریں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اگر باہر سے ہزار آوازیں بلند کی جائیں تو امریکہ پر ایسا اثر نہیں پڑ سکتا جیسے امریکہ سے ایک آواز بلند ہونے پر پڑ سکتا ہے کیونکہ وہاں ابھی جمہوری قدریں زندہ ہیں وہاں آواز کی قیمت