خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 487
خطبات طاہر جلد ۱۲ 487 خطبه جمعه ۲۵ جون ۱۹۹۳ء کیا گیا ہے اور جس ظلم میں تمام یونائیٹیڈ نیشنز شامل ہو گئی ہیں کیونکہ امریکہ کی غلامی میں آج یونائیٹڈ نیشنز صرف امریکہ کا ایک بیان دینے والا نمائندہ بن چکی ہے اور یونائیٹڈ نیشن کے فیصلوں کے تابع یہ مسلسل ظلم ہو رہے ہیں جو بوسنینز پر کئے جارہے ہیں ۔ ایک قوم کو صفحہ ہستی سے مٹایا جا رہا ہے اور ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ مسلمان ہیں ورنہ یورپ کی کوئی اور قوم اگر بوسنین کی جگہ ہوتی جو عیسائی ہوتی یا دہر یہ ہوتی تو ناممکن تھا کہ اس کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا۔ پس جس ظالمانہ طور پر ان کو مٹایا جا رہا ہے جس طرح ان کے مردوں، عورتوں اور بچوں پر مظالم توڑے جارہے ہیں۔ اس کی مثال ہٹلر کے زمانہ میں کچھ دکھائی دیتی ہے اس کے علاوہ انسانی تاریخ میں کم دکھائی دے گی۔ قتل عام تو بہت ہوئے ہیں۔ ہلاکو خان نے بھی قتل عام کئے ، چنگیز خان نے بھی قتل عام کئے اور بھی بہت بڑے بادشاہ تھے جنہوں نے مشرق و مغرب میں قتل عام کئے لیکن جن مظالم کا میں ذکر رہا ہوں وہ قتل عام سے بہت بڑھ کر ہیں۔ مظلوم معصوم عورتوں پر جس قسم کی زیادتیاں کی گئی ہیں، معصوم بچوں کو جس طرح آگ میں جلایا گیا ہے یا دیواروں سے سر مار مار کر ان کے پر خچے اڑائے گئے ہیں ۔ ایسے ایسے خوفناک ، اذیت ناک مظالم ہیں کہ ان کا تصور عصر حاضر میں تو در کنار از منہ گزشتہ میں بھی ممکن نہیں وہاں بھی کبھی آپ کو ایسے خوفناک مظالم کی تاریخ دکھائی نہیں دے گی ۔ شاید کہیں شاذ کے طور پر ایسے واقعات ہوئے ہوں مگر اس متمدن دنیا میں اس مہذب دنیا میں جسے مہذب کہا جاتا ہے، اس دنیا میں جہاں کہا جاتا ہے کہ تہذیب و تمدن اپنے عروج پر ہیں ان سب قوموں کی آنکھوں کے سامنے ایسے دردناک مظالم توڑے جا رہے ہیں جو جانوروں کی دنیا میں بھی دکھائی نہیں دیتے ۔ یہ وہ مظلوم قوم ہے جس کے چند افراد آج امریکہ میں بھی آباد ہیں۔ میں تمام جماعت احمد یہ امریکہ کو کہتا ہوں کہ اپنی ترجیہات میں اولیت اس بات کو دیں کہ اپنے مظلوم بوسنین بھائیوں سے محبت کا سلوک کریں ، انہیں اپنا ئیں ، انہیں اپنے خاندانوں کا حصہ بنائیں ، ان کی ہر طرح خدمت کریں ، ان کے دین کو بھی بچائیں ، ان کے کلچر کو بچائیں۔ ان کو بتائیں کہ اگر آج تم نے مغربی دنیا کی ظاہری حرص و ہوا سے متاثر ہو کر ویسے ہی رنگ اختیار کر لئے تو پھر دنیا میں بوسنیا کا نام ونشان باقی نہیں رہے گا۔ بسا اوقات ایسا ہوا کرتا ہے کہ ایک ملک کے باشندے زبردستی اپنے وطن سے بے وطن کر دیئے جاتے ہیں اور اس وطن میں ان کا کوئی ایک شخص بھی باقی نہیں رکھا جاتا لیکن اگر ان کے دلوں