خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 484
خطبات طاہر جلد ۱۲ 484 خطبه جمعه ۲۵ جون ۱۹۹۳ء خوفناک ہے کہ وہاں کے جو تاریخ کے ماہر لوگ تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ بڑی بھاری تعداد میں لوگ سانس کی گھٹن سے اس قید خانہ میں مر جایا کرتے تھے۔ فارغ ہونے کی کوئی جگہ نہیں ۔ کھانے کی کوئی تھا فکر نہیں تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ جس طرح مرغیوں کو ڈربے میں دو چار دن بند کر دیا جاتا ہے تو وہ زندہ نکل آتی ہیں اس طرح وہ لوگ جتنے بچیں گے اتنے ہی سہی اور اتنے درد ناک حالات ہیں کہ ان جگہوں کو دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ پھر ؟ ۔ پھر جن جہازوں پر لاد کر ان کو امریکہ لے جایا جاتا ؟ ان جہازوں میں ایک بڑی تعداد فاقوں سے یا بیماریوں سے سکتی سکتی مر جایا کرتی تھی اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں تھا چونکہ مفت کی کمائی تھی اس لئے کوئی پرواہ نہیں تھی ۔ اگر ہزار نہیں پہنچیں گے تو دوسوتو پہنچیں گے۔ وہی بڑی نعمت ہوگی ۔ وہی ان کے لئے دولت کمانے کا ایک ذریعہ بن جایا کرتا تھا اور یہ کاروبار ایک بہت لمبے عرصہ تک اس زمانے میں ہوا ہے جسے یہ Civilized زمانہ کہتے ہیں ۔اس زمانے میں ہوا ہے جسے یہ انسانی تہذیب کے اور انسانی تمدن کی ترقی کا زمانہ کہتے ہیں۔ لاکھوں بلکہ اگر کروڑوں کہا جائے تو بعید نہیں کیونکہ پھر ان غلاموں کے بچے بھی غلام رہے پھر ان کے بچے بھی غلام رہے ۔ پس عملاً آخر کار اس تعداد کو اگر کروڑوں شمار کیا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا ۔ کروڑوں کی تعداد میں زبر دستی غلام بنا کر ظالمانہ کام لئے گئے اور یہ قو میں اسلام پر ہنستی ہیں ۔ اسلام کی غلامی کی تعلیم کا تذکرہ کرتی ہیں اور اس کا مذاق اڑاتی ہیں دجل کی عجیب کیفیت ہے۔ صلى الله - حقیقت یہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے تمام عالم پر ایک احسان فرمایا ہے ۔ جب یہ بتایا کہ دجال کون ہو گا ۔ کیسے ظہور کرے گا ؟ کہاں کہاں اس کا اثر پہنچے گا۔ کس طرح اس کو پہچاننا اور پھر یہ بھی فرمایا کہ کوئی نبی دنیا میں نہیں آیا جو دجال کے فتنے سے اپنی قوم کو ڈرا کر نہ گیا ہو۔ پس یہ وہ فتنے کا زمانہ ہے جس میں ہمیں پیدا کیا گیا ہے۔ امریکہ کی جماعت کو چاہئے کہ اس تاریخ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان مظلوموں تک پہنچیں جو ان ظالموں کے ظلموں کا نشانہ بنے جنہوں نے عیسائیت کے نام پر دنیا میں حکومتیں قائم کی ہیں ۔ آج ہم نے جو بدلہ لینا ہے وہ وہ بدلہ نہیں جو عرف عام میں اسلام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے یعنی ظلم کا بدلہ ظلم سے لینا۔ ہم نے ظلم کا بدلہ عفو اور اصلاح سے لینا ہے ان قوموں کی طرف رحمت کی توجہ کرنی ہے۔ انہیں انتقام پر نہیں ابھارنا ۔ ان قوموں کا انتظام یہی ہے کہ یہ خدا والی قو میں بن جائیں اور آسمان پر ان کے نام لکھے جائیں اور اس تاریخ کا حصہ بن جائیں جو