خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 474
خطبات طاہر جلد ۱۲ 474 خطبه جمعه ۲۵ جون ۱۹۹۳ء میں ایک خدمت سر انجام دے رہے ہیں وہ بھی پانچ وقت کے لحاظ سے نمازیں پڑھتے ہیں اور روزے بھی رکھتے ہیں اس لئے یہ کہنا کہ یہ پیشگوئی آج پہلی دفعہ پوری ہو رہی ہے یہ درست نہیں ہوگا۔ جو پہلو میرے ذہن میں ہے وہ یہ ہے کہ جہاں تک میں نے نظر دوڑا کر دیکھا ہے مجھے اس بات کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا کہ آج سے پہلے ایسے علاقوں میں جہاں چھ مہینے کا دن چڑھا ہو یا چوبیں گھنٹے سے زائد کا کہیں دن ہو وہاں با قاعدہ کبھی پانچ وقت کی نماز میں ایک جگہ با جماعت ادا کی گئی ہوں اور پھر جمعہ اس طرح با جماعت ادا کیا گیا ہو کہ امت مسلمہ کے ہر طبقے کی نمائندگی اس میں ہو گئی ہو۔ مثلاً انصار کی عمر کے لوگ بھی ہوں، خدام کی عمر کے لوگ بھی ہوں، بچے بھی ہوں ، مرد بھی ہوں اور عورتیں بھی ہوں یہ واقعہ میرے اندازے کے مطابق پہلی دفعہ رونما ہو رہا ہے کہ حضرت اقدس صلى الله محمد مصطفی ﷺ کی امت کو ان غیر معمولی وقت کے علاقوں میں باقاعدہ با جماعت پانچ نمازیں پڑھنے کی توفیق ملی اور یہ سلسلہ کل سے شروع ہوا۔ کل ہم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں یہاں ادا کیں اور اس کے بعد یہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ ہمارے اندازے کے مطابق صبح کا وقت ہوا اور پھر صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد یہاں سے اس کیمپ کی طرف روانہ ہوئے جہاں ہمارا قیام ہے اور پھر اب جمعہ کے لئے آگئے ہیں جہاں جمعہ کے ساتھ عصر کی نماز بھی پڑھی جائے گی ۔ پس اس پہلو سے اس طرح با جماعت پانچ نمازیں یہاں ادا کی گئی ہیں کہ اس میں مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی اور بچے بھی سب خدا تعالیٰ کے فضل سے اس میں شامل ہیں اور یہ جمعہ اس پہلو سے وہ تاریخی جمعہ ہے کہ جس میں پہلی باران غیر معمولی اوقات کے علاقوں میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے پیشگوئی کو پورا کرتے ہوئے ہم جمعہ کا فریضہ ادا کر رہے ہیں ۔ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو چونکہ یہ غیر معمولی سعادت بخشی ہے اور جیسا کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے میں جمعہ کے متعلق بتارہا ہوں کہ اس کا جماعت احمد یہ کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے ۔ پس جماعت احمدیہ کے ساتھ جمعہ کا یہ ایک اور تعلق بھی قائم ہوا ہے کہ جب سے دنیا بنی ہے ان غیر معمولی اوقات کے علاقوں میں یہ پہلا جمعہ پڑھا جا رہا ہے جس میں مرد ، عورتیں اور بچے سب شامل ہیں اور سب کا تعلق جماعت احمد یہ مسلمہ سے ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی آخری زمانے کی الله عروسه پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے لئے چن لی گئی ہے اور یہ سعادت ہمیں نصیب ہوئی ہے۔ پس اس کا جتنا