خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 469 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 469

خطبات طاہر جلد ۱۲ 469 خطبه جمعه ۱۸ جون ۱۹۹۳ء بھی بعینہ یہ مضمون صادق آتا ہے۔ پس آج ہم اس سفر میں گواہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہر امکانی ضرورت کا چودہ سوسال پہلے سے خیال رکھا تھا اور ہم ایک ادنی سا بھی تردد اس بات میں محسوس نہیں کر رہے کہ جمعہ کا وقت آ گیا ہے، کیسے جمعہ ادا کریں، کہاں مسجد کی تلاش کریں ، پانی پوری طرح میسر نہ آئے تو کیا کیا جائے ۔ ہر امکان کو اسلام نے پوری طرح پہلے سے پیش نظر رکھ کر اُس کی ضروریات کو پورا فرما رکھا ہے۔ اس کو کہتے ہیں کامل مذہب ، اسی کا نام آخری مذہب ہے ۔ کوئی آخری قابل تعریف نہیں جب تک کہ وہ کامل نہ ہو اور انہی معنوں میں حضرت اقدس محمد مصطفی آخریت کے درجہ کمال تک پہنچے کیونکہ صلى الله حسن و جمال میں درجۂ کمال تک پہنچ گئے تھے۔ اس لئے کہ حسن میں آپ ﷺ سے اوپر درجہ متصور نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لئے حسن خلق میں اور حسن سیرت میں اور حسن کردار میں اس سے اوپر کا کوئی مضمون صلى الله صلى الله مانی ذہن میں آ ہی نہیں سکتا تھا۔ آخری حدوں کو آپ ﷺ نے چھوا ہے اس لئے آپ مایا اے آخری ٹھہرائے گئے اور ان معنوں میں یہ آخری ہونا قابل تعریف ہے ۔ خدا کرے کہ ہم ان معنوں میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی امت کا وہ آخری حصہ بن جائیں جن کو آخرین کے لفظ سے یاد کیا گیا صلى الله عروسه ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے آخرین کی ایک یہ تعریف فرمائی ہے کہ یا درکھو کہ تم خدا تعالیٰ کی وہ آخری جماعت ہو جس نے یہ یہ عظیم الشان کام کرنے ہیں یہاں زمانے کے لحاظ سے آخری ہونا نہ پیش نظر تھا ، نہ کوئی معنی رکھتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ تم وہ آخری جماعت ہو جس نے بنی نوع انسان کو اپنے مراتب اور اپنے کمالات کے لحاظ سے آخری مقام تک پہنچانا ہے اگر تم ایسا کرو گے تو حضرت محمد مصطفی کی آخریت کی غلامی کا حق ادا کرو گے۔ اگر صلى الله صلى الله اس میں ناکام رہے تو حضرت محمد مصطفی ہے تو پہلے بھی آخر تھے اور آخر تک آخر ہی رہیں گے۔ ہمیں پوری طرح آپ کی غلامی کی طرف منسوب ہونے کا جو حق وہ میسر نہیں آئے گا۔ خدا کرے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے ہم اللہ تعالیٰ کی وہ آخری جماعت ثابت ہوں جو آخری نبی کے شایان شان بنے ۔ آپ کے قدموں کے ساتھ وابستہ ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین )