خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 447
خطبات طاہر جلد ۱۲ 447 خطبه جمعه ۱۱رجون ۱۹۹۳ء فرمایا گیا ہے یہ مضمون چونکہ ایسا ہے جس کا جماعت احمدیہ سے گہرا تعلق ہے اور ان مقاصد سے ہے جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ان تک پہنچنا ابھی دور ہے حالانکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں جو صحابہ کی جماعت پیدا ہوئی اس میں سب سے زیادہ شان کے ساتھ یہ مقاصد ظاہر ہوئے تھے پھر آپ نے یہ کیوں فرمایا کہ ان مقاصد تک پہنچنا دور ہے اس سے مراد دراصل جدو جہد کا وہ لمبا زمانہ ہے جس میں سے گزر کر احمدیت نے ان مقاصد کو عالمی بنا دینا تھا اور ایک عالمگیر جماعت کے طور پر دنیا میں پھیل کر ان مقاصد کو پورا کرتے ہوئے تمام دنیا میں یہ صفات حسنہ پھیلا دینی تھیں اس لئے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ مقاصد یا ان تک پہنچنا دور کی بات ہے تو ہرگز یہ مراد نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں تو تربیت میں کمزوری تھی اور ابھی ان اعلیٰ مقاصد کو جماعت پا نہ سکی تھی مگر بعد کے دور کے زمانہ میں ایسا ہوگا جو بھی یہ معنی سوچے اس کی جہالت ہوگی کیونکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے متعلق ہی قرآن کریم کی یہ پیشگوئی تھی کہ وَ اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعہ :۴) اور یہ فیض ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے صحابہ سے ہی پایا ہے۔ اخَرِینَ کی صفات کو نسلاً بعد نسل آگے منتقل کرتے چلے جا رہے ہیں ۔ پس اپنے اس مقام عجز کو خوب اچھی طرح پیش نظر رکھتے ہوئے اب اس مضمون پر غور کریں جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو چار صفات بیان فرمائی ہیں یہ ایسی ہیں کہ ان میں سے ہر ایک صفت اپنی ذات میں ایک الگ خطبہ کا تقاضا کرتی ہے اور ایک ایک لفظ میں بڑے وسیع مضامین پر مشتمل عنوان بیان فرما دیئے گئے ہیں اور پھر ان کا آپس میں ایک ترتیبی تعلق بھی ہے جو بات پہلے بیان ہوئی ہے وہ پہلے ہی بیان ہونی چاہئے تھی جو بات دوسرے درجہ کا پر بیان ہونی چاہئے تھی اور اسی طرح تسلسل کا ایک اندرونی تعلق جاری ہے۔ ۔ پر ہے وہ دوسرے درجہ یہ مضمون انشاء اللہ تعالی آئندہ کسی وقت خدا نے توفیق دی تو بیان کروں گا مسلسل خطبوں میں اگر نہ بیان ہو سکے کیونکہ بعض دفعہ دوسری ضرورت کی چیزیں مجبور کر دیتی ہیں کہ تسلسل کو توڑ کر ایک اور مضمون کو شروع کر دیا جائے لیکن یہ سارا مضمون میرے ذہن میں ہے آئندہ جب بھی توفیق ملے گی تو انشاء اللہ اس کو سلسلہ وار آگے بڑھاؤں گا۔