خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 417 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 417

خطبات طاہر جلد ۱۲ 417 خطبه جمعه ۲۸ رمئی ۱۹۹۳ء جماعت جرمنی میں اور کون ہیں جن سے ان کا تعلق ہے۔ پیچھے سے یہ کس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ کیا ایسے ہیں کہ ان کے ماں باپ کا کوئی اثر ہو جو پیچھے رہ گئے ہوں یا اور رشتہ داروں کا کوئی اثر ہو۔ کیا ان میں کوئی ایسا ہے جو براہ راست ان کو اگر خلیفہ وقت کی طرف سے یا اُس کے کسی نمائندے کی طرف سے چٹھی جائے تو طبیعت میں شرمندگی پیدا ہوا اور زیادہ توجہ کرے۔ تو اس تمام جائزے کے بعد ایک نیا لائحہ عمل اُن کے لئے تیار ہوگا۔ اس لائحہ عمل کی روشنی میں بھاری امید ہے کہ کچھ اور لوگ جو پہلے اثر کو قبول نہیں کرتے تھے۔ نیک اثر کو قبول کریں گے، پاک تبدیلیاں دکھا ئیں گے، یہ اتنا وسیع کام ہے اور اتنی مسلسل محنت چاہتا ہے کہ کوئی سیکرٹری تصور کر لے کہ میرا کام ہے کیا؟ مجھ پر کیا ذمہ داری ہے؟ تو اگر وہ دعا پر ایمان نہ رکھتا ہو، اللہ کی مدد پر تو کل نہ کرتا ہو تو وہ سمجھے گا کہ میں اس لائق ہی نہیں کہ میں اس کام کو سر انجام دے سکوں ۔ وہ سمجھے گا کہ میرا دیانت دارانہ فرض یہ ہے کہ استعفیٰ دے دوں، یہ کام میرے بس سے باہر ہے۔ لیکن یا درکھیں کہ کام آپ کے بس سے باہر نہیں ہے۔ وہی اصول جو میں نے بیان کیا ہے لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا وہ ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ اے جماعت احمد یہ اتمام دنیا کے انسانوں کو تم نے محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں لا ڈالنا ہے اور یہ کام تمہارے بس میں ہے اگر تمہارے بس میں نہ ہوتا تو میں تمہارے سپرد نہ کرتا۔ تم آخرین کی وہ جماعت ہو جن سے تمام دنیا کی امیدیں وابستہ کر دی گئی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ تم میں کیا صلاحیتیں ہیں؟ اور اگر تم اُن صلاحیتوں کو بروئے کار لاؤ، دعاؤں سے کام لو، حکمت اور تدبیر سے کام لوتو یہ کام تمہارے بس میں ہے۔ اس یقین کے ساتھ تم نے آگے قدم بڑھانا ہے اور اس یقین کے نتیجے میں جو ذمہ داریاں ہم پر عائد ہوتی ہیں جیسا کہ میں بیان کر رہا ہوں ۔ حکمت کے ساتھ ، آنکھیں کھول کر، ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھتے ہوئے اُن ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی کوشش کرنا ہے اور جیسا کہ میں نے بار بار بیان کیا ہے۔ دعا کے بغیر حقیقت میں کسی قدم میں بھی برکت نہیں پڑ سکتی۔ پس لاز ما ساتھ ساتھ ہر عہدیدار کو اپنے لئے بھی دعا کرنا ہوگی اور جن نائبین سے اُس نے کام لینا ہے اُن کے لئے بھی دعائیں کرنی ہوں گی۔ اب دیکھئے کہ ایک شعبہ ہے اصلاح و ارشاد کا یا دعوت الی اللہ کا ۔ اُس شعبے میں بہت کام کی