خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 404
خطبات طاہر جلد ۱۲ 404 خطبه جمعه ۲۸ رمئی ۱۹۹۳ء سے کثرت سے غیر احمدی بھی اپنے گھروں میں بیٹھے خطبہ سنتے ہیں اور وہ غلط فہمیاں جو ہم ہزار کوشش سے دور نہیں کر سکتے تھے وہ ہر خطبے کے موقع پر از خود دور ہوتی چلی جا رہی ہیں ۔ فاصلے مٹ رہے ہیں اور لوگ قریب تر آ رہے ہیں لیکن لکھتی ہیں کہ سب سے زیادہ قابل رحم حالت گاؤں کے رہے ہیں مولویوں کی ہے وہ جس گلی سے گزرتے ہیں آپ کی آواز آ رہی ہوتی ہے اور اُن کے لئے ممکن نہیں ہے کہ کوئی ایسا راستہ تلاش کریں جہاں آپ کے خطبے کی آواز نہ آ رہی ہو۔ اس سے بڑھ کر خدا تعالیٰ اُن کے ظلموں کا انتظام اُن سے کیا لیتا۔ پس حقیقت میں یہ ظلموں کا انتقام تو ہے لیکن اصل انتقام تو تب ہو گا جب حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ والا انتقام پاکستان کے علماء سے لیا جائے گا۔ وہ جو آپ کی جان کے دشمن تھے وہ آپ کے جانثار دوست بن گئے ، وہ جو آپ ﷺ کے خون کے پیاسے تھے اپنا سارا خون آپ پر نچھاور کرنے کے لئے ترساں رہتے تھے۔ وہ یہ بھی پسند نہیں کرتے تھے کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ کو ایک کانٹا بھی چبھ جائے اور اُس کے بدلے اُن کی جان بچ جائے بلکہ ایک موقع پر ایک شہید ہونے والے نے جب اُن سے پوچھا گیا کہ بتاؤ اس وقت تمہارے دل کی کیا کیفیت ہے؟ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے تمہاری جگہ محمد رسول اللہ آج یہاں ہوتے اور تمہاری جان بچ جاتی ۔ اُس نے بڑی حقارت سے اُن کو دیکھ کر کہا کہ تم کیا کہہ رہے ہو خدا کی قسم ! میں اپنی جان بچانے کے لئے تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ ایک چھوٹا سا کانٹا بھی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو چبھ جائے ۔ (سیرت الحلمیہ جلد ۳ صفحہ ۷ مطبع بیروت ) صلى یہ حقیقی انتقام ہے محض تذلیل کوئی انتظام نہیں۔ تذلیل کے جذبات سے جماعت احمد یہ کو کلیہ مبرا ہو جانا چاہیے اصل انتقام محبت اور رحمت کا انتقام ہے ، گالیاں سن کر دعا دینے کا انتقام ہے اور یہی وہ محمد کی انتقام ہے جس نے دنیا کی تقدیر بدلنی ہے۔ پس اس انقلاب کے لئے اپنے دلوں کو تیار کریں اپنے دل میں پاک تبدیلیاں پیدا کریں۔ نفرت کا جواب محبت سے دینا سیکھیں پھر دیکھیں کہ انشاء اللہ تعالی تمام دنیا حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں اکٹھی ہو جائے گی۔ ایک اور اقتباس ہے جیکب آباد سے خاتون لکھتی ہیں۔ ڈش انٹینا ایجاد کرنے والے کے لئے جتنی دعائیں ہم پاکستانی احمدی کرتے ہوں گے دنیا کا کوئی فرد نہیں کرتا ہوگا۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا خاص فضل واحسان ہے کہ ہمارے دلوں کی بے چینی اور کرب کافی حد تک دور ہو گیا ہے۔ خصوصاً جو ہم