خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 398
خطبات طاہر جلد ۱۲ 398 خطبه جمعه ۲۱ مئی ۱۹۹۳ء جلوہ نمائی سامنے آئے گی ، نرمی کے ساتھ رفتہ رفتہ بیج اپنی کونپلیں نکالے گا اور وہ کونپلیں سرسبز تر ہوں گی اور زیادہ سبز ہوتی چلی جائیں گی ، اُن کے اندر سے شاخیں پھوٹیں گی ، اُن کے بندھن مضبوط ہوں گے اور اپنی ذات میں ، اپنے وجود میں قائم ہوتے چلے جائیں گے۔ تمام دنیا میں جو جماعت احمد یہ پھیل رہی ہے یہ تمثیل اُن پر صادق آ رہی ہے۔ صلى ال س لیکن کسی قوت سے وہ نشو و نما پائیں گے؟ وہ قوت وہی ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کی قوت ہے۔ کون سی صفات ہیں جو دوبارہ ان میں جلوہ گر ہوں گی اور ان کی نشو و نما کا موجب بنیں گی ؟ یہ وہی صفات ہیں جن کا ذکر پہلی آیت میں ہے۔ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ - اشد آم کا ایک تو معنی یہ ہے کہ زور کے ساتھ اپنا اثر دوسروں پر دکھاؤ ، دوسروں میں رائج کر کے دکھا دینا، دوسرے کو اپنے اثر سے مغلوب کر دینا اور ایک اثر ہے کہ دشمن جتنا چاہے اُس سے مغلوب نہ ہونا۔ ہر طرح کی کوشش جو دشمن آپ کے اخلاق کو بدلنے کے لئے کرے گا اُس کو نامراد کر دے گا۔ اشد اء وہ پتھر ہے مثلاً جو کروڑوں سال بھی پانی میں پڑا رہے تو پانی کا اثر اندر نہیں جاتا۔ اتنا وہ آپس میں مضبوطی سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں اُس کے ذرات، جو کسی غیر اثر کو قبول ہی نہیں کرتا۔ عیسی علیہ السلام نے جو تشبیہ دی ہے اس پر آشد آء کا معنی صادق آتا ہے مگر ذرا فرق کے ساتھ یہاں زیادہ تر وہ معنی صادق آتا ہے کہ وہ پھیلیں گے، پھولیں گے، پھلیں گے، غیر ان کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اُن کے اخلاق کو بگاڑنے کی کوشش کرے گا مگر نا کام رہے گا کیونکہ وہ وہی بندے ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ اگر وہ صفات دوبارہ ان میں پیدا نہ ہوں تو آخرین ہو کر پہلوں سے مل کیسے سکتے ہیں؟ پس ملنے کا مضمون صفاتی مضمون ہے، زمانے کے لحاظ سے تو آپ مل نہیں سکتے ،قومی لحاظ سے آپ مل نہیں سکتے۔ اگر مل سکتے ہیں تو صفات حسنہ کے ذریعے مل سکتے ہیں اور انہی صفات کے ذریعے مل سکتے ہیں جن کا آیت کے پہلے حصے میں ذکر ہے۔ صلى الله پس میں جماعت احمدیہ کو اس بات پر تیار کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور ان لوگوں کی صفات جو معہ تھے، آپ کے ساتھ تھے۔ اُن کو اختیار کئے بغیر آپ کی روئیدگی نشو و نما نہیں پاسکتی ہے۔ اُن کے بغیر آپ حقیقت میں اُس تمثیل کے آئینہ دار نہیں ہو سکتے ، اُس تمثیل کا مظہر نہیں بن سکتے جو تمثیل حضرت عیسی علیہ السلام نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے غلاموں کے متعلق