خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 358 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 358

خطبات طاہر جلد ۱۲ 358 خطبہ جمعہ کے رمئی ۱۹۹۳ء آپ نے آگے پہنچا دینا ہے۔ یہ سوال پیدا ہو گا کہ کیسے پہنچایا جائے کن لفظوں میں بات کی جائے کیا براه راست پیغام پہنچایا جائے یا کسی اور ذریعہ سے پہنچایا جائے ۔ مثلاً ایک بچی کو آپ کسی ایسی حالت میں دیکھتے ہیں اور خدام الاحمدیہ یا انصار الله یا لجنہ کی طرف سے اس کو یا ماں باپ کو پیغام مل جاتا ہے کہ آپ کی بچی فلاں حالت میں دیکھی گئی تو کیا آپ کا خیال ہے کہ اس سے فائدہ ہوگا ، ہرگز نہیں۔ بچی بھی بھڑ کے گی ، ماں باپ بھی بھڑکیں گے، غصہ پیدا ہو گا اور نظام کے خلاف منافرت کی ایک مہم چلائی جائے گی وہ کہیں گے کہ تم پہلے اپنی بچیاں سنبھالو۔ ہم نے تمہاری بیٹیاں بھی دیکھی ہوئی ہیں ۔ فلاں یہ کرتا پھرتا ہے اور فلاں یہ کرتا پھرتا ہے اور جو اندر ہو رہا ہے وہ سب کچھ ہمیں پتا ہے۔ یہ جوابی حملے کے ٹکسالی جملے ہیں ۔ یہ ضرور سننے پڑتے ہیں تو اصلاح کی مہم چلانا کوئی معمولی بات نہیں ہے اس میں غیر معمولی حکمت کی ضرورت ہے اور غیر معمولی صبر کی بھی ضرورت ہے۔ حکمت سے اگر منصوبہ بنایا جائے تو اللہ تعالی کے فضل سے فائدہ پہنچتا ہے۔ چنانچہ میں کوشش کرتا ہوں کہ جب بھی مجھے کسی گھر کے متعلق معین اطلاع ملے کہ فلاں گھر ہے اس میں یہ خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں تو مختلف ذرائع سے ان کو سمجھا کر کہ یوں آپ نے کوشش کرنی ہے ان کو تاکید کرتا ہوں کہ اس ذریعہ سے فلاں ذریعہ سے اس احتیاط کے ساتھ اس گھر کو سنبھالنے کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ الا ماشاء اللہ اتنا حیرت انگیز طور پر مثبت نتیجہ ظاہر ہوتا ہے کہ دل عش عش کر اٹھتا ہے۔ عش عش کر اٹھتا ہے کلام الہی کی سچائی پر، جس میں فرمایا گیا کہ فَذَكِّرْ إِنْ نَفَعَتِ الذِّكْری (الاعلیٰ : ۱۰) نصیحت کر اور یا درکھ صلى الله کہ اگر نصیحت حقیقی ہو اور سچی ہو، محمد رسول اللہ ﷺ کی نصیحت جیسی ہو تو وہ ضرور فائدہ در دے گی۔ پس بہت بڑی مہم ہے جو ہمارے سامنے ہے اور مغربی معاشرے کی صرف ایک ہی برائی میں نے ابھی بتائی ہے ہے۔ بہت سے ایسے رجحانات ہیں جو سخت مہلک ہیں ۔ بعض ان میں سے بڑے ہیں ، بعض چھوٹے ہیں لیکن بڑے اور چھوٹے ایک قسم کی مخلوق سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کی ایک قبیل ہے، ایک خاص طرز کی وہ بداخلاقیاں ہیں جو ایک دوسرے کو طاقت دیتی ہیں اور دیکھنے میں بعض دفعہ بظاہر ایک چھوٹی سی علامت ظاہر ہوتی ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے یا جس شخص میں ظاہر ہو رہی ہیں وہ سمجھتا ہے کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے جب نوجوان بچیاں یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم نے ہر کنا ہے اور قوانین یا اخلاقی قدروں سے باہر نکلنا ہے تو ان کے بالوں کے