خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 348 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 348

خطبات طاہر جلد ۱۲ 348 خطبہ جمعہ ۷ رمئی ۱۹۹۳ء اس کی نمازیں محفوظ نہیں ہیں اور یہ اعلیٰ مقصد حاصل کرنے میں بڑی جدو جہد کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس ضمن میں جو خطرات مغرب کی دنیا میں ہیں وہ مشرقی دنیا سے ، اسے بہت ہی زیادہ بھی ا زیادہ بھیانک ہیں کیونکہ دو طرح کے فتنے یہاں بے دھڑک گھر گھر میں داخل ہو چکے ہیں اور ہر گھر میں وہ کھیل کھیل رہے ہیں اور کوئی ان کو روکنے والا نہیں ہے۔ ان فتنوں میں سے ایک مغربی آزادی کا تصور ہے۔ ایسا غیر متوازن تصور ہے کہ اگر آپ اس کا تجزیہ کر کے دیکھیں تو آپ کو حیرت ہوگی کہ کیسا جاہلا نہ خیال ہے لیکن ہماری نسلوں کو اسی جاہلا نہ خیال سے مذہب سے دور پھینکا جاتا ہے۔ ان ممالک میں اور خصوصاً امریکہ میں جب بچہ جوان ہو رہا ہو یا بیٹی بڑی ہو رہی ہو اور بلوغت کی عمر کو پہنچ رہی ہو تو اس کے سکول کی طرف سے اس کے گردو پیش کی طرف سے اس کے دوستوں کی طرف سے اس کو پیغام ملتا ہے کہ مبارک ہو اب تم آزاد ہو رہے ہو۔ اے بچو اب تم آزادی کے قریب پہنچ رہے ہو اور اس عمر میں داخل ہو رہے ہو کہ تمہیں اپنے ماں باپ کی اقدار کی پیروی کرنے کی ، مذہبی اقدار کی پیروی کرنے کی اخلاقی قدروں کی پیروی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ یہ ساری فرسودہ باتیں ہیں ۔ اس وقت تک یہ تم پر لازم ہیں جب تک تم ماں باپ کے گھر میں رہنے کے پابند ہو جب تک ان کو کچھ اختیار ہے کہ تمہاری اخلاقی تعمیر میں کچھ کوشش کریں۔ اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچ گئے اب تم آزاد ہو جس کے ساتھ چاہو راتیں بسر کرو جو چاہو گند کرو عمر جس قسم کے ٹیکے لگوانے ہیں لگواؤ یہ دنیا چند روزہ ہے جیسے عیش کرتے ہیں عیش کر لو تمہیں اب کوئی پوچھ میں نہیں سکتا کوئی روک نہیں سکتا تم مادر پدر آزاد ہو ۔ اب مادر پدر آزاد ہونے کا جو یہ محاورہ ہے یہ اردو کا محاورہ ہے اور اس زمانہ میں بنا تھا جب مادر پدر آزاد ہوتا ہی کوئی نہ تھا کوئی قسمت کا مارا کہیں آزاد ہو جاتا ہو گا لیکن یوں لگتا ہے جیسے پیشگوئی کی گئی تھی اور یہ پیشگوئی سب سے زیادہ امریکہ پر صادق آرہی ہے۔ وہاں پر بچہ بلوغت سے پہلے بھی مادر پدر آزاد ہونے کی کوشش کرتا ہے، نہ ماں کا اثر رہے نہ باپ کا اثر رہے اور معاشرہ اس کو یہ دھوکہ دیتا ہے اور شیطان اس کے کانوں میں یہ بات پھونکتا ہے کہ تم آزاد ہو اب تمہیں ان پابندیوں کی کیا ضرورت ہے۔ اس آواز کا جھوٹ اور فریب ایک اور آواز سے ظاہر ہوتا ہے جو ساتھ ہی کانوں میں پڑتی ہے اور وہ قانون کی آواز ہے۔ وہ آواز یہ کہتی ہے کہ دیکھو جو بلوغت سے پہلے انسانوں کے بنائے ہوئے قانون توڑا کرتے تھے ان کی سزا کم ہوا کرتی تھی ان میں