خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 29 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 29

خطبات طاہر جلد ۱۲ 29 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۹۳ء اوٹ میں غریبوں کا پیٹ کاٹ کر ساری قوم کی دولت کو ایک ہی سمت میں بہایا جاتا ہے اور مزید تقاضے ہوتے چلے جاتے ہیں اور جب بھی یہ سوال اسمبلیوں میں اٹھایا جاتا ہے تو آگے سے یہ جواب دیا جاتا ہے کہ کیا تم قوم کے وفادار نہیں ہو، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ خطرات ہیں اور قوم کی بقا ہر دوسری چیز پر فائق ہے یہ بات تو درست ہے لیکن یہ نعرہ کھو کھلا ہے۔ قوم کی بقا انسانوں کی بہبود کے لئے کی جاتی ہے اگر قوم کی بقا انسانی بہبود کے خون چوس جائے تو اس بقا کا کیا مقصد ہے اور خطرات کے متعلق یہ دیکھا نہیں جاتا کہ آکہاں سے رہے ہیں۔ خطرات دونوں ملکوں میں اندرونی ہیں۔ یہ نیتوں کے فسادات ہیں خود غرضیوں کے فسادات ہیں یا کم عقلیوں کے فسادات ہیں۔ دونوں ملکوں کے غریب عوام کو بعض جذباتی نعروں میں مبتلا کر کے ان کو اتنا زیادہ مشتعل کر دیا جاتا ہے اور پھر ان کی سوچوں کو ایسا ماؤف کر دیا جاتا ہے کہ وہ آئندہ اپنے وہی رہنما چنتے ہیں جو ان باتوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جارہے ہیں عقل دینے والے رہنما قوم کو پسند ہی نہیں رہتے گویا کہ سیاستدان صرف اپنی معقول سیاست کی قبر ہی نہیں کھودتا بلکہ ہمیشہ کے لئے قوم کے مفادات کو دفنا دینے کے لئے ایک قبر کھود رہا ہوتا ہے۔ جب میں ہندوستان گیا تھا تو وہاں بعض دانشوروں سے میری گفتگو ہوئی تو مثلاً کشمیر کے مسئلے پر میں نے ان سے کہا کہ آپ عقل سے کام لیں اور اس مسئلہ کو اس طریق پر سلجھا ئیں تفصیلی باتیں ہوئیں تو انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ تو یوں ہے کہ پاکستان یوں کر رہا ہے اور فلاں یوں کر رہا ہے میں نے کہا کہ دیکھیں آپ یہ فرضی اور مصنوعی با تیں چھوڑ دیں واقعہ یہ ہے کہ آپ کے ملک کا غریب کشمیر کی چکی میں پیا جا رہا ہے اگر کشمیر کا مسئلہ اتنی دیر تک نہ چلایا جاتا تو ہندوستان کے دفاع پر آپ کو دسواں حصہ بھی خرچ نہ کرنا پڑتا۔ یہی حال پاکستان کا ہے کیا یہ حقیقت ہے کہ نہیں اگر ہے تو عقل سے کام لیں غور کریں کہ اتنی خوفناک خون چوسنے والی جو جو تک آپ کے ساتھ لگ گئی ہے اس کو اتارنا کس طرح ہے۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ جو نک پالنے کے لئے سارا خون بنایا جا رہا ہے جب تفصیل سے باتیں آگے بڑھیں تو پھر وہ بات سمجھ گئے اور میں اس بات سے بڑا خوش ہوں کہ ہندوستانی سیاست دانوں نے جب بات ؟ ت سمجھی ہے تو اس کے مطابق پھر اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش بھی کی ہے۔ چنانچہ وہ بات سمجھ کر انہوں نے کہا کہ میں اب بات سمجھ تو گیا ہوں کہ ضرورت اسی بات کی ہے اور جو اصول آپ نے بیان کئے ہیں ان سے