خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 319 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 319

خطبات طاہر جلد ۱۲ 319 خطبه جمعه ۲۳ را پریل ۱۹۹۳ء پیدا ہوتا ہے۔ اُس وقت جو صبر ہے وہ دعاؤں میں ڈھلتا ہے۔ ایسا صبر جس میں انسان خدا کی خاطر ایک تبدیلی چاہتا ہے لیکن نہیں کر سکتا اور مجبور ہو کر اور نہتا ہو کر بیٹھ رہتا ہے۔ ایسا صبر دل میں ایک قسم کی غم کی جھیل سی پیدا کر دیتا ہے۔ اُس جھیل سے جو بخارات اٹھتے ہیں وہ دعا ئیں ہیں جن کی طرف اس آیت میں ذکر فرمایا گیا ہے ۔ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة اللہ سے مدد مانگتے ہو کس چیز سے صبر سے جو سے مدد مانگو گے کچھ تمہارے پلے ہونا چاہئے ، فرمایا صبر تمہارے دامن میں ہونا چاہئے ۔ صبر - دل خون ہوتا ہے اور ایک غموں کی جھیل سی بن جاتی ہے۔ اُس سے جو دعائیں اٹھیں گی وہ تمہارے لئے خدا تعالیٰ کے ہاں مقبولیت کی ضمانت بن جائیں گی ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت اور فضلوں کی بارشیں نازل ہوں گی۔ ساتھ فرمایا وَ الصَّلوةِ اور صلوٰۃ کے سا ق اور صلوٰة کے ساتھ۔ پس اس مضمون کو صلوٰۃ کے ساتھ دوبارہ باندھتے ہوئے میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں۔ وہ صبر یا وہ نیکی کا خیال یا وہ نیک نصیحتیں جن کے ساتھ ایک مستقل عبادت کا پاک تعلق نہ ہو وہ بیکار جایا کرتے ہیں۔ اُن کے اندر مقبولیت کی طاقت پیدا نہیں ہوتی ، وہ خدا کے عبادت گزار بندے ہیں جن کا صبر مقبول دعاؤں میں ڈھلا کرتا ہے۔ ایک انسان جو عبادتوں پر قائم نہیں ہے، نہ اپنی عبادت کی حفاظت کرتا ہے، نہ غیروں کی عبادت کی حفاظت کرتا ہے، اُن کے گھر تو ایسے گھونسلے بن جاتے ہیں جہاں سے پرندے اڑ چکے ہوں، بے نور سے گھر ہوتے ہیں ، اُن میں سے ذکر الہی رخصت ہو جاتا ہے۔ گھر کا ماحول ہی عجیب سا دنیا داری کا ، ایک مادہ پرستی کا سا ماحول ہے جس میں وہ حقیقی سکون اور تسکین قلب باقی نہیں رہتا۔ جو ذکر اللہ سے انسان کو عطا ہوتا ہے۔ أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد :۲۹) خبر دار ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں اگر دل کی طمانیت چاہتے ہو ایک دائمی سکینت چاہتے ہو تو اللہ کے ذکر سے تمہیں ملے گی۔ پس جن کے گھر پھر عبادت سے خالی ہو جائیں وہ بھی بعض دفعہ نیک نصیحتیں کیا کرتے ہیں۔ بعض باتوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اُن میں بعض خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ یہ تو نہیں کہ ہر خوبی سے وہ عاری ہو جائیں جو خوبیاں اپنے اندر ہیں اُن کے متعلق وہ دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں ۔ جن خوبیوں سے وہ خود عاری ہیں اُن کی طرف اُن کی نگاہ نہیں جاتی۔ یہ جو لوگ ہیں ان کی نصیحت بھی بیکار ہے اور اُس کا کوئی اثر نہیں ہوگا کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ مبر کے ساتھ خدا تعالیٰ سے مدد مانگو اور صلوٰۃ کے ساتھ مدد مانگو۔ اس مضمون نے ایک اور بات ہمیں یہ سمجھا دی