خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 313
خطبات طاہر جلد ۱۲ 313 خطبه جمعه ۲۳ را پریل ۱۹۹۳ء براہ راست کوئی سنتا ہے تو ضرور اس کی طرف زیادہ توجہ دیتا ہے۔ واسطوں اور ذریعوں سے جو آواز اُس کی طرف پہنچتی ہے انسان اُس کو اتنی اہمیت نہیں دیتا۔ اس میں بہت سی حکمتیں ہیں اور قرآن کریم میں ان حکمتوں کا مختلف جگہوں پر ذکر فرمایا ہے۔ صلى الله حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی نصیحت میں جو غیر معمولی طاقت تھی ، اُن اسباب پر غور کریں جن کا قرآن کریم میں بعض دفعہ واضح طور پر بعض دفعہ اشارہ ذکر ملتا ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہی چیز درجه به درجهہ حضور اکرم ﷺ کی نمائندگی کرنے والے غلاموں پر بھی صادق آتی ہے۔ پس خلیفہ وقت ہو یا امیر ہو یا مرکزی عہدیدار اس پر بھی یہی مضمون صادق آتا تا ہے۔ جب کوئی مرکزی عہدیدار نصیحت کرتا ہے، اگر وہ نصیحت سننے والا اُس کے سامنے بیٹھا ہو اُس پر اور اثر پڑے گا۔ اور اگر اُس نصیحت کو سن کر اُس کے کارندے ، نمائندے بات پہنچا رہے ہیں تو اُس کا اور اثر ہوگا۔ ان دو باتوں میں غیر معمولی فرق ہے۔ اقبال نے غالباً یہی مضمون بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ ے جو تھا نہیں ہے جو ہے نہ ہوگا یہی ہے اک حرف مہرمانہ قریب تر نمو جس کی اُسی کا مشتاق ہے زمانہ ( کلیات اقبال صفحہ: ۴۵۸) یہاں قریب تر ہونا دور والوں کے اثر کو کم کر کے دکھاتا ہے مگر گستاخی یا بے ادبی کے رنگ میں نہیں بلکہ ایک نفسیاتی نکتہ ہے۔ سورج دور ہے اور ایک دیا نزدیک ہے۔ وقتی طور پر بعض دفعہ ایک تیز لیمپ سورج سے بھی زیادہ شعاع پیدا کر سکتا ہے لیکن اُس میں سورج والی بات تو نہیں پیدا ہو سکتی کہ انسان کے ساتھ تعلق رکھنے والی ساری کائنات کو زندگی بخشتا ہے۔ لیکن جو قریب روشنی آتی ہے اُس کا ایک اپنا اثر ہے اور جو فاصلے پر دکھائی دیتی ہے اُس کا اپنا ایک اثر ہے۔ تو براہ راست نصیحت کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو شخص نصیحت کرتا ہے اُس کا مرتبہ کوئی بہت اونچا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی نکتہ ہے جس سے تعلق ہو گا وہ اگر خود بات کرے گا تو اُس کا زیادہ اثر پڑے گا اگر اُس کا پیغام جائے گا تو اُس کا کم اثر پڑے گا۔ پس اس پہلو سے ایک نماز کے تعلق میں میں ایک اور بات کہنی چاہتا ہوں کہ نماز کی نصیحت بھی کریں اور جن کو آپ نصیحت کرتے ہیں اُن پر زیادہ اثر پیدا کرنے کے لئے کوشش کریں کہ خلیفہ وقت کی براہ راست آواز میں ہی یہ نصیحتیں اُن کو پہنچیں۔ اس سلسلے میں جونمازوں پر خطبات