خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 306
خطبات طاہر جلد ۱۲ 306 خطبه جمعه ۲۳ را پریل ۱۹۹۳ء مرکزی نماز اہمیت کے اعتبار سے ہے اور اہمیت کے اعتبار سے بعض کے نزدیک تہجد کی نماز سب سے زیادہ اہم ہے یا بعض کہتے ہیں کہ صبح کی نماز سب سے زیادہ اہم ہے۔ بعض دوسرے مفسرین نے جو میں سمجھتا ہوں کہ اُن کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ بہتر اور وسیع معنی سمجھائے ہیں۔ یہ معنی لیا ہے کہ مرکزی نماز کا فیصلہ ہر شخص کے حالات اور موقع محل کے مطابق ہوگا۔ وہ نماز جو کسی کی زندگی میں سب سے زیادہ دو بھر ہو اُس کی حفاظت کرنا مرکزی نماز کی حفاظت کرنا ہے۔ وہ نماز جو کاموں اور مشاغل کی حالت میں آئے اور انسان کو خطرہ ہو کہ ان مشاغل کے بہانے نماز سے غافل ہو جائے گا۔ وہ الصلوةِ الوسطى بن جایا کرتی ہے۔ ہر شخص کے اپنے حالات ہیں اُن کے پیش نظر الصَّلوةِ الْوُسْطَى اپنی شکل بدلتی رہتی ہے لیکن ہر شخص کے لئے کوئی نہ کوئی الصلوةِ الْوُسْطی موجود ہے۔ اب مغربی معاشرے میں عموماً وقت کی کمی کا بہانہ کر کے ظہر کے ساتھ عصر کو جمع کر لیا جاتا ہے، مغرب کے ساتھ عشاء کو جمع کر لیا جاتا ہے۔ یہاں یہ دونوں نمازیں الگ الگ پڑھنا الصلوةِ الْوُسْطی کے مضمون میں داخل ہو جاتا ہے اور جس نماز کو ٹالا گیا ہے ، اپنے وقت سے ہٹایا گیا ہے وہ الصلوۃ الْوُسْطی ہے۔ اس کی حفاظت نہیں کی گئی ، اُسے اپنے وقت پر ادا کرنے کی بجائے اُسے کھینچ کر دوسرے وقت میں داخل کیا گیا ہے۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ نے اجازت فرمائی ہے اور شریعت نے بہت سہولت کے ساتھ کھلی اجازتیں دی ہیں۔ اُن اجازتوں سے استفادہ کرنا تو کوئی گناہ نہیں لیکن اگر خدا سے اجازت لے کر اُس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے ، انسان اپنے نفس سے اجازتیں لینا شروع کر دے اور خدا کے مقرر کردہ اوقات میں تبدیلی پیدا کرے اور اُس کے فرائض سے غافل ہو اور ہمیشہ نفس کسی نہ کسی بہانہ سے اجازت دے دے۔ اُسے اجازت دینا نہیں کہا جاتا۔ یہ تو ایسی بات ہے جیسے ایک شخص مولوی صاحب تھے اُن کو یہ تو پتا تھا کہ چوری نہیں کیا کرتے لیکن ایک گنوں کے کھیت کے پاس سے گزرتے تھے تو سخت دل للچاتا تھا اور صبح صبح وہ اکیلے اٹھے ہوتے تھے نماز کے لئے تیاری کرنے میں کوئی دیکھ بھی نہیں رہا ہوتا تھا۔ اُن کو خیال آیا کہ اجازت کے ساتھ تو جائز ہے نا تو میں اس کھیت سے اجازت لے کر گئے توڑوں گا۔ چنانچہ انہوں نے کھیت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اے بی بی مادی تینوں پیچھے ملاں قاضی ۔ گنے دولواں کہ چار۔ تو کھیت کی طرف سے خود اجازت دیتا تھا۔ بھن لے پنج سات کہ پانچ سات توڑ لے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کئی دن تو اُس کی