خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 26
خطبات طاہر جلد ۱۲ 26 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۹۳ء اس کا جواب میں دے رہا ہوں کہ ہم نے جب نبوت کے مضمون پر غور کیا تو ہمیں سمجھ آئی کہ خدا تعالیٰ نے انسانوں میں تقدیریں بدلنے کی صلاح یریں بدلنے کی صلاحیتیں رکھی ہیں ۔ صرف منہاج نبوت پر چلنا ضروری ہے ایک صلى الله نبی کو خدا کھڑا کرتا ہے اور ساری قوم کے حالات بدل دیتا ہے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو تمام ﷺ تمام دنیا کے حالات بدلنے کے لئے کھڑا کر دیا تو حقیقت یہ ہے کہ اگر اس میں کوئی معقولیت نہ ہو، کوئی گہر اسچا فلسفہ نہ ہو تو خدا تعالیٰ ایسی بات کر ہی نہیں سکتا۔ پس جماعت احمد یہ کیونکہ حقیقی طور پر حضرت اقدس محمد صلى الله رسول اللہ ﷺ کی غلام ہے اور عاشق ہے اور آپ ہی کی خاطر قائم کی گئی ہے آپ ہی کے پیغام کو دنیا میں غالب کرنے کے لئے اس جماعت کو دنیا میں کھڑا کیا گیا ہے اس لئے اس کی بنیادی صفت یہ ہونی جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بنیادی صفت تھی یعنی رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیاء : ۱۰۸) تمام : چاہئے صلى الله جہانوں کے لئے رحمت بننا ہوگا۔ تبھی میں نے پچھلے خطبہ میں اپنے آپ کو انسانیت کے لئے وقف کرنے کی تعلیم دی تھی ، یہ کہا تھا کہ اس سال کو انسانیت کا سال بنا ئیں۔ جتنی طاقت ہے اس طاقت کے مطابق آپ دنیا کو صحیح پیغام پہنچا ئیں لیکن طاقت کے صحیح استعمال کے لئے عقل کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر صحیح استعمال ہو تو انسان کمزور ہونے کے باوجود بھی بڑے بڑے کام کر سکتا ہے۔ ایک دریا کا رخ بدلنا ہو تو اگر وہاں سے رخ بدلے جائیں جہاں سے دریا نکلتے ہیں تو بہت آسانی کے ساتھ وہ کام ہو جاتا ہے لیکن چونکہ اور بھی بہت سے چھوٹے چھوٹے دریا بعد میں شامل ہوتے رہتے ہیں اس لئے یہ کام پھیلا ہوا اور مشکل بھی دکھائی دے سکتا ہے لیکن جب سمتیں مقرر کی جائیں تو آغاز میں جو زاویہ ہے اس کا بدلنا تو مشکل نہیں ہوا کرتا اور زاویے کے بدلنے سے دور دور کے کنارے پر زمین آسمان کا فرق پڑتا دکھائی دیتا ہے پس عقل سے کام لیا جائے اور آغاز میں کوشش کی جائے ، ان جگہوں پر ہاتھ ڈالا جائے جو منبع کی حیثیت رکھتی ہوں ، جو بنیادی زاویوں کی حیثیت رکھتی ہوں تو وہ کام جو بظاہر آپ کی طاقت سے باہر ہو وہ آپ کی طاقت کے دائرے میں شامل ہو جاتا ہے۔ ابھی میں نے تحریک کی تھی کہ مختلف جہت سے انسانوں کے لیڈروں اور رہنماؤں تک پہنچیں۔ جب سر تک پہنچیں گے، جب دماغ تک پہنچیں گے تو جسم کے ہر عضو تک پہنچنا ضروری نہیں رہتا پھر وہ دماغ جو آپ کی باتیں سن کر آپ کا قائل ہوتا ہے وہ از خود اپنے جسم کو آپ کے تابع کر دے