خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 295
خطبات طاہر جلد ۱۲ 295 خطبہ جمعہ ۱۶ را پریل ۱۹۹۳ء چلتا ہے کہ ہماری جماعت میں عائلی زندگی ابھی تک مثالی نہیں بن سکی۔ الله ۔ مختلف معاشروں کے مختلف نقائص ہیں۔ مغربی نقائص اور ہیں اور مشرقی نقائص اور ہیں۔ مغربی عائلی زندگی بھی مثالی نہیں ہے اور مشرقی بھی نہیں لیکن اسلام تو نہ مشرق کا ہے نہ مغرب کا ہے۔ اسلام تو وہ دین ہے جو ایسے نور سے تعلق رکھتا ہے۔ جس سے متعلق فرمایا گیا لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ (النور:۳۶) نہ وہ مشرق کا ہے نہ مغرب کا ہے۔ دونوں کے درمیان یکساں سانجھا نور ہے یعنی محمد رسول رسول الله ﷺ پس مشرقی معاشرے کے نقائص خواہ کچھ بھی ہوں ۔ مغربی معاشرے کے نقائص نقائ کچھ اور ہوں یہ بحث لا تعلق ہے۔ عائلی زندگی وہی ہے جو اس نور کی عائلی زندگی تھی جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں خدا کا نور چپکا ہے اور اس عائلی زندگی کے حوالے سے ہمیں اپنے تعلقات کو درست کرنا ہوگا اگر کسی معاشرے سے وفا اٹھتی چلی جارہی ہے اور حیاء اٹھتی چلی جا رہی ہے تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کی عائلی زندگی اس معاشرے کو پیغام دیتی ہے کہ تم مجھ سے دور ہو، مجھ سے کٹے ہوئے ہو اور جب تک میری ذات کے ساتھ پیوستہ نہ ہو جاؤ تمہیں امن نصیب نہیں ہو سکتا۔ مشرقی معاشروں میں عائلی زندگی بعض اور رسم و رواج اور بدیوں کا شکار ہے اور میاں بیوی کے آپس کے تعلقات پر ان کے خاندان کے دوسرے تعلقات اتنے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ اتنا دخل انداز ہوتے ہیں کہ اس کے نتیجہ میں بسا اوقات میاں بیوی کے تعلقات محض اس وجہ سے بگڑتے ہیں کہ دونوں طرف سے ماں باپ کو شوق ہے کہ وہ اپنی بالا دستی اس جوڑے پر قائم کریں اور یہ ایسی بیہودہ رسمیں ہمارے بعض مشرقی معاشروں میں جاری ہیں کہ خاوند کے رشتہ دار سمجھتے ہیں کہ جب تک ہم بیوی کو کھینچ کر اپنے ماں باپ سے توڑ کر اپنا نہ بنالیں اس وقت تک ہماری فتح نہیں ہوسکتی ۔ ہمارا بچہ تسکین نہیں پا سکتا اور بعض صورتوں میں بالکل اسی قسم کا رویہ بچی کے والدین اختیار کرتے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک خاوند کے رشتہ داروں سے کلیہ توڑ کر الگ نہ کر دیا جائے اس وقت تک اس جوڑے کو سچا چین نصیب نہیں ہو سکتا، سچی سکینت عطا نہیں ہو سکتی اور اس کے نتیجہ میں وہ دونوں خاندان کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح ان میاں بیوی کا گھر اُجڑ جائے اور اکثر اُجڑتے ہوئے گھروں میں اگر اکثر نہیں تو اجڑے ہوئے گھروں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جن میں ماں باپ کا قصور ہے جو