خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 279 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 279

خطبات طاہر جلد ۱۲ 279 خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۹۳ء سے باہر نکل جاؤ گے تو فَاخْرُجُ مِنْهَا میں۔ مِنْهَا میں یہ پیغام ہے کہ جا پھر تمام اعلیٰ صلاحیتوں سے تجھے عاری کر کے محض خالی آگ سے کھیلنے والا ایک وجود بنا دیا گیا ہے۔ اب اس کو جس طرح چاہے استعمال کر اس سے کبھی خیر پیدا نہیں ہوگی ۔ پس نظام جماعت کے اس پہلو کو سمجھیں اور اپنی اطاعت کی حفاظت کریں ۔ یہ نہ دیکھیں کہ سے پیدا ہوتی کون ہے جس کو نظام جماعت کی نمائندگی کا حق عطا کیا گیا ہے یہ غور کریں کہ کس نے عطا کیا ہے کس کی نمائندگی کر رہا ہے۔ کسے عطا کیا ہے۔ مٹی میں ہمیں یہ پیغام دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی نمائندگی میں ہمیشہ عاجز بندوں کو چنا کرتا ہے اور شیطان کی اباء کے مقابل پر آگ کی سرکشی کے مقابل پر دیکھیں کتنا خوبصورت مضمون سجا کر پیش فرمایا گیا ہے جس بات پر شیطان نے اعتراض کیا اسی بات فرمایا گیا میں اس کا جواب تھا کہ اے جاہل میں تو مٹی کو پسند کرتا ہوں جو راہوں پر بچھ جاتی ہے۔ میں تو ان انسانوں کو پسند کرتا ہوں جن میں مٹنے کی اور عاجزی کی صلاحیتیں موجود ہیں۔ جب وہ میری راہ میں بچھتی ہیں تو ان سے پھر نشو و نما ہوتی ہے، اُن سے اعلیٰ صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اب اس پہلو سے آپ دیکھیں کہ تمام کائنات میں جہاں بھی زندگی کے آثار پائے جاتے ہیں وہاں مٹی کی خصلت سے زندگی پیدا ہوتی ہے۔ آگ سے زندگی پیدا نہیں ہوتی ۔ آگ سے جناتی زندگی تو پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ قرآن کریم نے بھی فرمایا ہے یعنی وہ زندگی جو باغیانہ حرکتیں کرتی ہو جس میں تکبر پایا جاتا ہو۔ چنانچہ مادی دنیا میں بھی بعض وجود جو خطرناک اور مہلک بیکٹیریا پر مشتمل ہیں وہ آگ سے پیدا کئے گئے ہیں اور باقی صلاحیت رکھنے والی تمام زندگی گیلی مٹی سے پیدا ہوئی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس مضمون پر بھی روشنی ڈال دی کہ دیکھو ساری نشو و نما تو مٹی سے ہو رہی ہے اور انسان اس سے پیدا ہو کر کتنی بلندیوں تک جا پہنچتا ہے لیکن عجز کے آخری زینے سے جس سے نیچے عجز کا مقام نہیں وہاں سے زندگی کا سفر شروع ہوتا ہے، وہاں سے بلندیوں کا سفر ہوتا ہے۔ پہلا زینہ عجز اور انکساری میں رکھا گیا ہے جس کا قدم پہلے زمینہ پر نہیں پڑتا وہ کسی بلندی تک نہیں پہنچے گا تو اب ”علا والا مضمون بھی سمجھ آگیا اللہ تعالیٰ فرما تا کہ تو نے پہلے زینہ پر تو قدم نہیں رکھا جو اطاعت اور انکساری کا زینہ ہے تو اونچا کیسے اڑ گیا ؟ کیسے تجھے وہ بلندیاں نصیب ہو گئیں جن کے نتیجہ میں تو میرے آدم پر اکڑا کر کر تکبر سے باتیں کرتا ہے اسے ہم نے عجز کے مقام سے اٹھایا ہے اور وہاں سے رفعتیں بخشی ہیں اور وہ جو خدا کی راہ میں سب سے