خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 273 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 273

خطبات طاہر جلد ۱۲ 273 خطبه جمعه ۹ را پریل ۱۹۹۳ء پیغام ملا تھا انہوں نے فرمایا کہ کل کے جمعہ میں ہمیں بھی مخاطب کریں اس سے جماعت میں نیا حوصلہ پیدا ہوتا ہے اور جب ہم اپنا نام سنتے ہیں تو بہت لطف آتا ہے۔ یہ دو ممالک خصوصیت کے ساتھ رے پیش نظر ہیں مگر یہ جو نصیحت ہے یہ عمومی ہے اس کا ساری دنیا کی : کا ساری دنیا کی جماعتوں سے میرے: نظام جماعت سے گہرا تعلق ہے۔ سے تعلق ہے ہر جگہ نظام جماعت دراصل اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کی نمائندگی کرتا ہے وہ ایدی جن سے خدا نے تخلیق کی ہے جن معنوں میں بھی وہ ہاتھ کہلاتے ہیں ان معنوں میں جو نظام جماعت ہے وہ ان ہاتھوں کی طاقت اور اس کی صناعی کی نمائندگی کرتا ہے اور انہی ہاتھوں سے خلیفہ بنایا جاتا ہے اور اسی خلیفہ کو ہم نبی اللہ یا رسول اللہ کہتے ہیں جو براہ راست اللہ کے ہاتھوں سے بنتا ہے اور آگے پھر جو نظام جاری ہوتا ہے وہ خدا کے ہاتھوں کی نمائندگی میں جاری ہوتا ہے۔ یہ مضمون ہے جسے آپ اچھی طرح سمجھ لیں کیونکہ اس مضمون میں جہاں کوئی ابہام پیدا ہوگا وہاں ٹھوکر کے رستے نکل آئیں گے۔ پس نظام جماعت کوئی الگ چیز نہیں ہے کوئی ایسی مصنوعی میکینکل چیز نہیں ہے جس کے متعلق لوگ کہیں کہ نظام کیا چیز ہے یہ تو یونہی ایک ڈھانچہ سا بنا ہوا ہے ہمارا خدا سے تعلق ہے ہم خدا کے ادنی غلام ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے تو یہ نظام و ظام کیا چیز ؟ چھوڑیں ان باتوں کو اس قسم کی بھی لوگ باتیں کرتے ہیں وہ یہ نہیں سمجھتے کہ قرآن کریم نے ان آیات میں جن کی میں نے تلاوت کی ہے آغاز ہی سے مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے بلکہ سب بنی نوع انسان کو اس قسم کی بودی باتوں کے خلاف متنبہ فرما دیا تھا اور ان آیات میں دراصل یہ اعلان ہے کہ تمہارے لئے ہمیشہ تمہارے اسلام کو بڑا خطرہ تمہاری انانیت سے ہوگا اور نظام ہوگا اور نظام کے مقابل پر سر اٹھانے سے ہوگا اگر تم اس خطرے کو سمجھ جاؤ اور اس ٹھوکر سے باز آؤ تو پھر تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اس کے بغیر تم عباد اللہ میں داخل ہی نہیں ہو سکتے۔ پس دو قسم کے عباد ہیں ایک عباد اللہ ہیں اور ایک شیطان کے ، ن کے بندے بن سب سے جاتے ہیں اور یہی دوگروہ ہیں جو مذہب کے تعلق میں ہمیشہ برسر پیکار دکھائی دیتے ہیں۔ عباد اللہ بننے کے لئے یہ شرط بتائی گئی کہ تکبر سے باز آجاؤ ، اپنی انانیت سے توبہ کر لو اس کے بغیر تم کہو گے تو یہی کہ اے خدا! تو نے ہمیں اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے ہم تیرے ہاتھوں کے نمائندہ ہیں مگر یہ ایک جھوٹی اور دھتکاری ہوئی بات ہوگی ۔ متکبر انسان کا اور اپنے آپ کو بلند سمجھنے والوں کا خدا