خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 256
خطبات طاہر جلد ۱۲ 256 خطبه جمعه ۲ را پریل ۱۹۹۳ء انتخاب پر ضرور وارد ہوتے ہیں اور ضرور انتخابات کی کیفیت گندی ہو جاتی ہے اور ضروری نہیں کہ اس کے نتیجہ میں جو شخص چنا جائے وہ بھی غیر متقی ہو یہ لازم و ملزوم نہیں ہیں۔ بعض اوقات اتفاق سے ایک منتقى شخص جما ں جماعت میں نمایاں طور پر ابھر رہا ہوتا ہے اور وہ دیگر لحاظ اور وہ دیگر لحاظ سے صاحب منصب بھی ہوتا ہے وہ انتخاب کے نتیجہ میں آگے آجاتا ہے لیکن یہ رجحان اپنی ذات میں بہت ہی خطرناک ہے کہ انتخاب کے وقت دیگر دنیوی مناصب پر نظر ہو اور تقویٰ سے بے نیاز ہو کر کوئی جماعت انتخاب کرے۔اس سلسلہ میں جو سب سے اہم بات میں آپ کو سمجھا سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر آپ کی پسند اللہ کی پسند کے مطابق رہی تو آپ کی پسند ا چھی ہے اور اس پسند کے نتائج ہمیشہ اچھے نکلیں گے۔ اللہ کی پسند آپ کی پسند سے مختلف ہو گئی اور بیچ میں فاصلے پڑ گئے تو آپ کی پسند کی کوئی بھی حیثیت باقی نہیں رہے گی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا مضمون اس طرح سمجھایا کہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتقكم الله کی پسند تو تقویٰ ہے۔ اللہ کو تو وہی معزز دکھائی دیتا ہے جو صاحب تقویٰ ہو۔ اگر تمہارے ہاں عزتوں کے معیار بدل گئے ہیں تو وہ معیار بگڑ چکے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ پس اگر جماعت کو انتخاب کے وقت صاحب تقوی ہی معز ز دکھائی دیتا ہے تو یہ وہ جماعت ہے جو کبھی مر نہیں سکتی ۔ اگر انتخاب کے وقت صاحب تقویٰ معزز دکھائی نہ دیتا ہو بلکہ اپنا رشتہ دار معزز دکھائی دیتا ہو، اپنے گروہ کا لیڈر معزز دکھائی دیتا ہو، کسی قوم سے تعلق رکھنے والا معزز دکھائی دیتا ہو، کوئی بڑا زمیندار صاحب اثر دکھائی دیتا ہو، کوئی صاحب دولت امیر انسان معزز دکھائی دیتا ہو تو ایسے انتخاب خدا کی نگاہ کے انتخاب نہیں ہیں۔ اس لئے خلافت سے پہلے لازم ہے کہ نبوت ہو۔ نبوت کے بغیر خلافت کا وجود ممکن ہی نہیں ، نہ خلافت دنیا میں قائم کی جاسکتی ہے کیونکہ نبوت ہی ایک منصب ہے جو براه راست خدا تعالیٰ کی طرف سے قیام میں لایا جاتا ہے اور اس پر ایک ایسا شخص فائز فرمایا جاتا ہے جو خدا کی نظر میں سب سے معزز ہو اور وہ صاحب تقویٰ ہو۔ پس جب تک بگڑے ہوئے نظام پر خدا کا نمائندہ پہلے مقرر نہ کیا جائے انتخابی اداروں میں یا انتخابی نظام میں تقوی داخل ہی نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے دنیا میں کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ سارا عالم اسلام مل کر زور لگا لے اور خلیفہ بنا کر دکھا دے وہ نہیں بنا سکتا کیونکہ خلافت کا تعلق خدا کی پسند سے ہے اور خدا کی پسند اس شخص پر خود انگلی رکھتی ہے جسے وہ صاحب تقویٰ سمجھتا ہے