خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 245
خطبات طاہر جلد ۱۲ 245 خطبه جمعه ۲۶ مارچ ۱۹۹۳ء ہو رہا ہے کہ ہم نے گھر بچائے تو بچیں گے۔ انگلستان کی جو سابق پرائم منسٹر تھیں ، مسز تھیچر، انہوں نے تو آخری دور میں یہی نعرہ بنا لیا تھا کہ ہمیں گھروں کو بچانا ہے اور واقعی یہ درست بات تھی ۔ پس دنیا کے گھروں کو بچانے سے پہلے اپنے گھر تو بچاؤ ورنہ وہی گنجے والی بات ہو گی کہ بال اگانے کی دوائی بیچتا ہوگی ہو اور اپنے سر پر ایک بال نہ ہو۔ پس اپنے ان بالوں کی نہیں ، اپنے بال بچوں کی حفاظت کا انتظام کرو ور نہ غیروں کے بال بچوں کا کیا خیال کرو گے یہ بہت ہی اہم بات ہے۔ اس کو سمجھ لو اور پلے باندھو۔ اور بیویوں کو بھی تو چاہئے کہ وہ سکینت بنیں ۔ بعض بیویوں میں یہ عادت ہوتی ہے کہ اپنے میاں کے لئے تیار نہیں ہوتیں ۔ غیروں کے لئے ہوتی ہیں۔ بد نہیں ہوتیں بنتیں خراب نہیں ہوتیں لیکن ہمارے معاشرے کا یہ قصور ہے اور کچھ عورت کی فطرت کے اندر یہ بات داخل ہے کہ بن سچ کر اپنی طرف کھینچے۔ اس رجحان کو نظم و ضبط کے اندر رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے پردے کی تعا پردے کی تعلیم دی ہے اور یہ رجحان عورت میں مرد کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ اس لئے دیکھا گیا ہے کہ جب وہ اپنے گھروں سے باہر نکلتی ہیں تو تیار ہونے میں بہت وقت لیتی ہیں۔ خاوند بیٹھا انتظار کر رہا ہے کہ چلو دیر ہو رہی ہے۔ دکانیں بند ہو جائیں گی یا سورج سر پر چڑھ آیا ہے چلو باہر نکلیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ میں ذرا تیار ہو جاؤں اور گھر آتے ہی ساری تیاری ختم ۔ جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہاں زینت دکھاؤ، وہاں کوئی زینت دکھانے کی طرف توجہ نہیں ، نہ بنانے کی توجہ ہے۔ جن کے متعلق فرماتا ہے کہ یہاں زینت چھپاؤ وہاں زینت دکھانے کے لئے چل پڑتی ہیں ، تو عورتوں نے خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رکھی ہے۔ اپنی زیتوں کو اپنے خاوندوں کے لئے ، اپنے عزیزوں کے لئے بنائیں۔ زینت سے مراد صرف ایسی زینت نہیں ہے جو خیالات کو کسی خاص سمت میں موڑے۔ زینت سے مراد ہر وہ زینت ہے جو حسن خلق کی زینت یا ایسی اداؤں کی زینت ہے مثلاً باتوں کی طرز ، چلنے کی طرز، کپڑے پہنے ، بنا سجنا، پاک صاف رہنا، یہ وہ زینتیں ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے صرف خاوندوں کو شامل نہیں فرمایا بلکہ گھر کے بچوں کو اور تمام محرموں کو شامل فرما دیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت کا یکطرفہ ترجمہ نہ کرنا۔ عورت کو اپنے گھر میں، رہن سہن میں ایسا پیارا بن کر رہنا چاہئے اور ایسا صاف ستھرا پاکیزہ ماحول پیدا کرنا چاہئے کہ صرف خاوند کے لئے سکینت کا سامان نہ ہو بلکہ سب عزیزوں اور رشتہ داروں کے لئے وہ گھر جنت نشان بن جائے ۔ وہ آئیں اور وہاں تسکین پائیں اور جنت کے