خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 213 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 213

خطبات طاہر جلد ۱۲ 213 خطبه جمعه ۱۲ مارچ ۱۹۹۳ء بات کے لئے گریاں ہے تو فرشتے اس کے لئے روزے رکھیں گے بشرطیکہ وہ بہانہ جو نہ ہو تو خدا تعالیٰ اسے ہر گز ثواب سے محروم نہ رکھے گا۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ : ۵۶۳) یہ وہی فرشتوں والا مضمون آ گیا ۔ حقیقت میں یہ مراد نہیں ہے کہ فرشتے واقعہ پیچھے آ کر صفیں باندھ کر نمازیں پڑھنے لگ جاتے ہیں یا روزے رکھنے لگ جاتے ہیں۔ فرشتوں کے لئے تو روزے کا تصور ہی نہیں ہے، نہ انسانوں کی طرح نمازیں پڑھنے کا تصور ہے، تمثیلی باتیں ہیں۔ مراد یہ ہے کہ آسمان پر یہ نیکیاں اُن کے حق میں لکھ دی جاتی ہیں ۔ فرشتوں کی تائید اُن کو نصیب ہو جاتی ہے۔ پس ان معنوں میں اپنے رمضان کو آپ فرشتوں کی تائید والا رمضان بنانا چاہیں تو نیک نیتی سے روزے کی تمنا کریں اور چھوٹے چھوٹے بہانے بنا کر روزے چھوڑنے کی طرف رجحان کا میلان نہ رکھیں کیونکہ یہ انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔ اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباس میں اگر توفیق ملی تو آئندہ جمعہ میں پیش کروں گا۔ ایک چھوٹا سا واقعہ بیان کر دوں۔ ایک ماں نے لکھا ہے اپنے بچے کے متعلق کہ آپ نے جب روزہ پر زور دیا کہ روزہ ضرور رکھنا چاہئے ۔ تو میرے چھوٹے بچے نے مجھے تاکید کی رات سونے سے پہلے کہ امی مجھے ضرور جگانا ہے۔ میں نے ضرور روزہ رکھنا ہے۔ کہتے ہیں میں نے نہیں جگایا۔ بالکل چھوٹا بچہ ہے۔ دوسرے دن صبح شکوہ کیا کہ آپ نے مجھے جگایا کیوں نہیں ۔ شکوہ کرتے کرتے کھانسی آ گئی۔ کہنے لگا اچھا کیا آپ نے نہیں جگایا۔ حضور نے فرمایا تھا کہ بیمار روزہ نہ رکھے۔ چھوٹی سی پیاری سی بات ہے۔ لیکن درخشندہ مستقبل کی آئینہ دار ہے۔ ہماری نئی نسلیں ایسی دار پل رہی ہیں۔ وہ جو چھوٹے چھوٹے بچے کچھ سنتے ہیں تو سوچتے ہیں ۔ ان کے دلوں میں یہ باتیں گہری جاگزیں ہو رہی ہیں جو باتیں بچپن میں دل میں بیٹھ جائیں ، وہ انسان کے ساتھ ساتھ نشو و نما پاتی ہیں۔ پس مبارک ہو کہ ہماری آئندہ نسلیں اللہ کی راہ میں پہلے سے زیادہ جدو جہد کرنے والی پیدا ہوں گی۔ آج جن چھوٹے معصوم بچوں میں نیکیاں پل رہی ہیں کل وہ جب باہر نکل کر جولانیاں دکھا ئیں گی۔ تو کل عالم کو انشاء اللہ نیکیوں سے بھر دیں گی۔ اللہ اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین )